نئی دہلی 14 مئی (یو این آئی) وزیرِ دفاع مسٹر راجناتھ سنگھ نے دفاعی مینوفیکچرنگ کے شعبے میں خود انحصاری پر زور دیتے ہوئے مختلف شراکت داروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کو مضبوط کرنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی سکیورٹی منظرنامے کے درمیان قومی سلامتی اب پرانے طریقوں پر منحصر نہیں رہ سکتی۔
مسٹر سنگھ نے جمعرات کو یہاں اہم اسٹریٹجک مذاکرے 'قلم اور کَوَچ' میں اپنے ورچوئل پیغام میں کہا کہ اس پلیٹ فارم کا نام ہی ملک کے مستقبل کے حفاظتی ڈھانچے کے طاقتور وژن کی عکاسی کرتا ہے۔ وزیرِ دفاع نے کہا، "قلم خیالات، منطق اور آگے کی سوچ رکھنے کی ہمت کی علامت ہے۔ کوچ طاقت، تحفظ اور قوم کے دفاع کی صلاحیت کی علامت ہے۔ جو ملک واضح طور پر سوچ سکتا ہے اور مضبوطی سے اپنا دفاع کر سکتا ہے، وہی دنیا میں سربلند ہوتا ہے۔ ہم اسی طرح کے ہندوستان کی تعمیر کی سمت میں کام کر رہے ہیں۔"
عالمی تنازعات کی بدلتی ہوئی نوعیت پر مسٹر سنگھ نے کہا کہ دنیا بھر میں اسٹریٹجک منظرنامہ مسلسل مزید غیر یقینی، مسابقتی اور ٹیکنالوجی پر مبنی ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے جغرافیائی سیاسی تناؤ، تصادم، سائبر خطرات، سپلائی چین کی کمزوری اور ہائبرڈ جنگ کی ابھرتی ہوئی شکلوں کو ممالک کے سامنے موجود اہم چیلنج قرار دیا۔ انہوں نے کہا، "ایسی دنیا میں قومی سلامتی پرانی جہتوں پر مبنی نہیں رہ سکتی۔ اس کے لیے ہماری تیاری، لچک، اختراع اور اسٹریٹجک اعتماد ضروری ہے۔"
دفاعی شعبے میں خود منحصر ہندوستان کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مسٹر سنگھ نے کہا کہ خود انحصاری صرف ایک معاشی مقصد نہیں بلکہ ہندوستان کے لیے اسٹریٹجک ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا، "جو قوم اہم دفاعی صلاحیتوں کے لیے دوسروں پر حد سے زیادہ انحصار کرتی ہے، وہ بحران کے وقت کمزور رہتی ہے۔ ہمیں اپنے قومی نظام کے اندر ہی اہم نظام کا ڈیزائن، ترقی، پیداوار، دیکھ بھال اور اپ گریڈیشن کرنا ہوگا۔ اسی طرح ہم اپنی اسٹریٹجک خودمختاری کو محفوظ رکھ سکیں گے۔" وزیرِ دفاع نے مختلف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان زیادہ ہم آہنگی کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ جدید جنگ میں کئی شعبوں کے درمیان مسلسل تال میل ضروری ہے۔ انہوں نے کہا، "جدید جنگ روایتی سرحدوں کا احترام نہیں کرتی۔ کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ ہم اپنی بری، بحری، فضائی، سائبر اور خلائی افواج کو کتنی مہارت سے ایک ساتھ لا پاتے ہیں۔ یہ اس بات پر بھی منحصر ہوگا کہ ہماری لیبارٹریز، صنعتیں، اسٹارٹ اپس، پالیسی ساز اور فوجی ادارے کتنی قریب سے مل کر کام کرتے ہیں۔"
دفاعی تیاریوں میں تیزی سے اختراع (انوویشن) پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مستقبل کی جنگوں میں وہی ممالک آگے رہیں گے جو خیالات کو تیزی سے آپریشنل صلاحیت میں بدل سکیں۔ انہوں نے کہا، "کسی قوم کی طاقت اس بات پر زیادہ منحصر ہوگی کہ اس کی لیبارٹریز، صنعتیں اور مسلح افواج کتنی جلدی متحد ہو کر سوچ اور عمل کر سکتی ہیں۔ مستقبل کے میدانِ جنگ ان ممالک کے لیے سازگار ہوں گے جو کسی خیال، پروٹو ٹائپ اور آپریشنل تعیناتی کے درمیان کا وقت کم کر سکیں۔" مسٹر سنگھ نے جائنٹ نیس، مقامی مینوفیکچرنگ، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور عالمی شراکت داری پر ہونے والی بات چیت کو ہندوستان کے وسیع دفاعی وژن کے باہم جڑے ہوئے ستون قرار دیا۔
انہوں نے دفاعی شعبے میں ہندوستان کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی دفاعی برآمدات بڑھ رہی ہیں، نجی شعبے کی شرکت بڑھ رہی ہے اور مسلح افواج کو جدید بنایا جا رہا ہے۔ تاہم، انہوں نے بہت زیادہ مطمئن ہونے سے بچنے کا مشورہ دیا اور اسٹیک ہولڈرز سے ہندوستان کے دفاعی نظام کو مسلسل مضبوط کرتے رہنے کی اپیل کی۔ مسٹر سنگھ نے کہا، "قلم کو مزید جرات مندانہ خیالات لکھتے رہنا چاہیے اور کوچ کو مزید مضبوط ہوتے رہنا چاہیے۔" انہوں نے پالیسی سازوں، ماہرین اور دفاعی شعبے سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے کے لیے منتظمین کی ستائش کی اور امید ظاہر کی کہ ان غور و خوض سے ایسے عملی نتائج نکلیں گے جو مسلح افواج اور قوم دونوں کے لیے سودمند ہوں گے۔