بی جے پی نے مغربی بنگال میں ٹی ایم سی کو شکست دے کر بڑی جیت حاصل کی ہے۔ اس تاریخی جیت کے بعد بنگال کے نئے وزیر اعلیٰ کی ریس شروع ہو گئی ہے۔ دہلی سے لے کر بنگال تک ہر کوئی ایک ہی سوال پوچھ رہا ہے کہ بنگال کا اگلا وزیر اعلیٰ کون ہوگا؟
بی جے پی کی طرف سے ابھی تک وزیر اعلیٰ کے امیدوار کے بارے میں کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی اس نے وزیر اعلیٰ کے امیدوار کو پیش کیا ہے، اس لیے اس معاملے پر سسپنس برقرار ہے۔ سویندو ادھیکاری کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں ،وہ بی جے پی کے ایک طاقت ور لیڈر ہیں جنہوں نے ممتا بنرجی کو ان کے گڑھ میں شکست دی ۔ تاہم پارٹی کے اندر تین دیگر ناموں پر بھی بات ہو رہی ہے۔
رابندر ناتھ ٹیگور کے یوم پیدائش کے موقع پر 9 مئی کو کولکاتا کے اگلے وزیر اعلیٰ کی حلف برداری کی تقریب متوقع ہے۔ ٹیلی گراف کی ایک رپورٹ کے مطابق، بی جے پی کے اندر چار ناموں پر غورکیا جارہا ہے۔ سویندو ادھیکاری، جنہوں نے بھوانی پور میں ممتا بنرجی کو شکست دی، سمک بھٹاچاریہ، اُتپل برہمچارو (اتپل مہاراج) اور سوپن داس گپتا کے نام شامل ہیں۔ آئیے ان قیاس آرائیوں کے پیچھے کی وجوہات کا جائزہ لیتے ہیں۔
قابل غوربات ہے کہ کچھ عرصہ قبل وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا تھا کہ اگر بنگال میں بی جے پی جیت جاتی ہے تو اگلا وزیر اعلیٰ بنگال کا بیٹا ہوگا، جو بنگال میں پیدا ہوا ہو، وہاں تعلیم حاصل کی ہو، بنگالی زبان بولتا ہو اور بی جے پی کا کارکن ہو۔ اس کی بنیاد پر، یہ واضح ہے کہ بی جے پی کولکاتا میں کوئی بڑا سرپرائز نہیں دے گی یا پیراشوٹ چیف منسٹر مقرر نہیں کرے گی۔
سی ایم کے عہدے کی دوڑ میں سویندو ادھیکاری کے نام پر سب سے زیادہ چرچا ہو رہی ہے۔ اس بار وہ دو سیٹوں نندی گرام اور بھوانی پور سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ بھوانی پور ممتا بنرجی کا گڑھ تھا، جہاں سویندو نے دیدی کو شکست دی۔ رپورٹس کے مطابق سویندو نے اس سے قبل 2021 میں نندی گرام میں ممتا بنرجی کو شکست دی تھی، اس لیے وہ نندی گرام سے الیکشن لڑنا چاہتے تھے لیکن امت شاہ نے انہیں بھوانی پور سے الیکشن لڑنے کو کہا۔
شاہ کے مشورے کے بعد، سویندو نے دو سیٹوں،بھوانی پور اور نندی گرام سے اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا اور نندی گرام کو 10,000 سے زیادہ ووٹوں سے اور بھوانی پور کو 15,000 سے زیادہ ووٹوں سے جیتا۔ چنانچہ پارٹی کے کئی لیڈروں کا خیال ہے کہ ممتا بنرجی کو دو بار شکست دینے والے سویندو کو وزیر اعلیٰ بنایا جانا چاہیے۔