فلپائن کے البے میں انتہائی خطرناک قدرتی واقعہ سامنے آیا ہے۔ حکام نے پیر (4 مئی) کو بتایا کہ ہفتے کے آخر میں ’مایون‘ آتش فشاں کی ڈھلانوں سے لاوے کے ذخائر گرنے کی وجہ سے بھاری مقدار میں راکھ نکلنے کے بعد 300 سے زائد خاندانوں کو وہاں سے نکال لیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ 3 مئی سے ’مایون‘ آتش فشاں پھر سے فعال ہو گیا ہے۔ اس دوران آسمان میں راکھ کے غبار اٹھے اور آس پاس کے علاقے کو مکمل طور سے اپنی زد میں لے لیا۔
’مایون‘ کے خطرے کے پیش نظر اس علاقے سے ہزاروں لوگوں کو نکالا گیا ہے۔ افسران نے لاوا اور لینڈ سلائیڈنگ کی وارننگ جاری کی ہے اور 5 لیول کے پیرامیٹر کو بڑھا کر لیول 3 کر دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی رہائشیوں کو لاوا، لینڈ سلائیڈنگ اور آتشزدگی کے خطرے کا الرٹ جاری کرتے ہوئے متاثرہ علاقے سے 6 کلومیٹر کے دائرے میں جانے سے منع کر دیا ہے۔ تقریباً 2426 میٹر بلند اور چھوٹے سائز کے لیے پہچانے جانے والے آتش فشاں میں اسٹرومبولین دھماکے ہو رہے ہیں۔ حالانکہ یہ دھماکے درمیانی درجے کے ہیں۔ یہ وقفے وقفے سے لاوا، گیس اور آتش فشاں ملبے سے باہر نکلتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ راکھ پھیل جانے کی وجہ سے آس پاس کے علاقوں میں ٹرانسپورٹ پر اثر پڑا ہے۔ حد بصارت بھی کافی کم ہو گئی ہے، اس کی وجہ سے 5 ہزار لوگوں کو امدادی مراکز میں رکھا گیا ہے۔ حکام کے مطابق آتش فشاں میں ’اسٹرومبولین‘ سرگرمیاں دیکھی جا رہی ہے۔ اس میں لاوا، گیس اور آتش فشاں کے ملبے کے اندر وقفے وقفے سے دھماکے ہو رہے ہیں۔ یہ فلپائن کا سب سے فعال آتش فشاں ہے۔ یہ ایک سیاحتی مقام بھی ہے۔ حالانکہ صورتحال اب بھی غیر مستحکم بنی ہوئی ہے۔