جے پور، یکم مئی (یواین آئی) راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے کہا ہے کہ ملک میں مزدوروں کی حالت انتہائی سنگین ہے اور انہیں کم از کم اجرت بھی نہیں مل رہی، جبکہ راجستھان کی صورتحال تو اس سے بھی زیادہ خراب ہے اور اجرت کے معاملے میں یہ ملک میں سب سے نچلے درجے پر ہے، جو نہایت افسوسناک ہے۔
مسٹر گہلوت نے جمعہ کو عالمی یومِ مزدور کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج مزدوروں کا دن ہے اور اسی لیے ماضی میں یہ نعرہ دیا گیا تھا کہ "دنیا کے مزدورو، ایک ہو جاؤ"، لیکن اس کے باوجود موجودہ حالات بہت تشویشناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کو مقررہ کم از کم اجرت بھی نہیں مل پا رہی، جو ایک نہایت افسوسناک بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوئیڈا میں جو صورتحال پیدا ہوئی، وہ حکومت کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ مزدوروں کا خیال رکھا جائے۔ مالکان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مزدوروں کی دیکھ بھال کریں، یہ ان کی اخلاقی ذمہ داری بھی ہے، اور اسی کی کمی کے باعث یہ حالات پیدا ہو رہے ہیں۔ پورے ملک میں صورتحال بہت تشویشناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ راجستھان کی حالت اور بھی خراب ہے، یہاں مزدوری کے لحاظ سے ریاست ملک میں سب سے نیچے ہے، جو انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ روز وزیر اعلیٰ کو خط لکھ کر ریاست میں مزدوری بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
گہلوت نے کہا کہ کانگریس حکومت نے گِگ ورکرز کے لیے قانون پاس کیا تھا، جو پورے ملک میں صرف راجستھان نے نافذ کیا تھا اور اسے عالمی سطح پر سراہا گیا تھا۔ لیکن حکومت بدلنے کے بعد اس قانون کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا، نہ اس کے قواعد بنائے گئے اور نہ ہی مزدوروں کا تحفظ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سلیکوسس بیماری کی صورتحال نہایت نازک ہے۔ کان کنی کے شعبے میں مالکان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مزدوروں کو حفاظتی اقدامات پر عمل کرنے کا پابند بنائیں، جیسے ماسک پہننا اور دیگر حفاظتی آلات کا استعمال کرنا۔ انہوں نے کہا کہ مزدور بھی بعض اوقات لاپروائی کرتے ہیں، جس کا نتیجہ بعد میں بیماری کی صورت میں سامنے آتا ہے۔