Jadid Khabar

بنگال اور تمل ناڈو میں ریکارڈ ووٹنگ موجودہ پالیسیوں کے خلاف عوامی بے چینی کی عکاس: سنجے راؤت

Thumb

 
ممبئی: شیوسینا (یو بی ٹی) کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں ہونے والی ریکارڈ ووٹنگ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے موجودہ پالیسیوں کے خلاف عوامی بے چینی کی علامت قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خراب موسمی حالات کے باوجود ووٹروں کی بڑی تعداد میں شرکت اس بات کی واضح علامت ہے کہ عوام اپنے جمہوری حق کے تئیں سنجیدہ ہیں اور وہ اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے گھروں سے باہر نکلے۔
سنجے راؤت کے مطابق مغربی بنگال میں تقریباً 92 فیصد اور تمل ناڈو میں 84 سے 85 فیصد کے درمیان ووٹنگ کا ہونا ایک غیر معمولی صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طوفانی حالات اور بارش کے باوجود لوگوں کا ووٹنگ مراکز تک پہنچنا جمہوریت پر ان کے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر انتخابی عمل سے متعلق نظام یعنی ایس آئی آر کو بہتر انداز میں نافذ کیا جاتا تو ووٹنگ کی شرح اور بھی زیادہ ہو سکتی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ مغربی بنگال میں کچھ پالیسیوں کے نفاذ کے طریقہ کار نے بھی عوام کو زیادہ تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے متحرک کیا۔ ان کے مطابق جب عوام کو لگتا ہے کہ ان کے مفادات متاثر ہو رہے ہیں تو وہ بھرپور طریقے سے جمہوری عمل میں حصہ لیتے ہیں۔
مہاراشٹر کی سیاست پر بات کرتے ہوئے سنجے راؤت نے مہاوکاس اگھاڑی کے اندر جاری مشاورت کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے ’ماتوشری‘ جا کر سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں آئندہ قانون ساز کونسل انتخابات سمیت کئی اہم معاملات پر گفتگو ہوئی۔ انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ اتحاد کے درمیان تال میل کو مضبوط بنانے اور آئندہ کی حکمت عملی طے کرنے پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔
سنجے راؤت نے یہ بھی کہا کہ ادھو ٹھاکرے کو دوبارہ قانون ساز کونسل میں بھیجنے کے حوالے سے بھی بات چیت ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق اتحاد کے تمام فریق اس بات کے خواہاں ہیں کہ سیاسی استحکام برقرار رہے اور مشترکہ فیصلے کیے جائیں۔
زبان کے مسئلے پر اپنی رائے دیتے ہوئے سنجے راؤت نے کہا کہ مہاراشٹر میں مراٹھی زبان کا استعمال فطری اور ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح تمل ناڈو میں تمل اور مغربی بنگال میں بنگالی زبان کو اہمیت دی جاتی ہے، اسی طرح مہاراشٹر میں مراٹھی زبان کا احترام ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر ریاست میں مراٹھی زبان کے حوالے سے کوئی قانون بنایا جاتا ہے تو اس پر عمل کرنا سب کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ مہاراشٹر میں رہ کر روزگار حاصل کر رہے ہیں اور سہولیات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، انہیں ریاست کی زبان اور ثقافت کا احترام کرنا چاہیے۔ سنجے راؤت کے مطابق زبان کو تنازع کا موضوع بنانے کے بجائے اسے شناخت اور باہمی احترام کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔