راج ناتھ نے جرمن کمپنیوں کو ہندوستان میں مشترکہ ترقی اور پیداوار کے لیے مدعو کیا
نئی دہلی، 23 اپریل (یو این آئی) وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جرمنی کی کمپنیوں سے ہندوستان کے ساتھ دفاعی شعبے، بالخصوص جدید ترین ٹیکنالوجی میں مشترکہ ترقی اور مشترکہ پروڈکشن کی اپیل کی ہے۔
جرمنی کے تین روزہ دورے پر گئے مسٹر سنگھ نے قابل اعتماد اور مشترکہ مفادات پر مبنی شراکت داری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے موجودہ جغرافیائی سیاسی توازن میں تبدیلی، سپلائی چین میں خلل، ٹیکنالوجی کے شعبے میں تیزی سے ہوتی تبدیلیوں اور بڑھتی ہوئی عالمی غیر یقینی صورتحال کے درمیان انہیں ناگزیر قرار دیا۔ راج ناتھ سنگھ جمعرات کو میونخ میں 'ڈیفنس انویسٹر سمٹ' کے دوران ہندوستانی اور جرمن دفاعی صنعت کی اہم شخصیات سے خطاب کر رہے تھے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ ممالک اور صنعتیں اپنی وابستگیوں کا ازسرنو جائزہ لے رہی ہیں، سپلائی چین میں تنوع لا رہی ہیں، اور ایسے قابل اعتماد شراکت داروں کی تلاش میں ہیں جو لچک، تسلسل اور باہمی اعتماد کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں ہندوستان دنیا کو ایک بڑھتی ہوئی مارکیٹ، نوجوان اور ہنرمند افرادی قوت، اور تیزی سے ترقی کرتا ہوا صنعتی نظام فراہم کرتا ہے، جو استحکام، امکانات اور قانون کی حکمرانی کے عزم سے جڑا ہوا ہے۔ یہ تمام عوامل غیر یقینی دنیا میں طویل مدتی سرمایہ کاری کے فیصلوں کے لیے اہم ہیں۔ 'ری آرم یورپ' پہل اور 'آتم نربھر بھارت' مہم کے تحت دستیاب بے پناہ امکانات کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر سنگھ نے دہرایا کہ ہندوستانی کمپنیاں جرمن کمپنیوں کے ساتھ جدید راڈار اور سینسر ٹیکنالوجی، ملٹی سینسر، مصنوعی ذہانت پر مبنی بغیر پائلٹ کے فضائی نظام (ڈرونز)، سونوبوائے اور ہائی پاور لو فریکوئنسی واٹر ٹرانسمیٹر جیسے شعبوں میں مشترکہ ترقی اور پیداوار کے لیے پرجوش ہیں۔
وزیر دفاع نے 2047 تک ترقی یافتہ قوم بننے کے ہندوستان کے انقلابی سفر کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہدف واضح وژن، مضبوط پالیسی سمت اور 1.4 ارب لوگوں کی اجتماعی خواہشات کی حمایت سے حاصل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا، "ہم دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی اور مستحکم بڑی معیشتوں میں سے ایک ہیں، جس کے پاس مضبوط میکرو اکنامک بنیاد اور واضح پالیسی سمت ہے۔" مسٹر سنگھ نے ہندوستان کے خود انحصاری کے تصور کو محدود نہیں بلکہ نئی شراکت داریوں کے راستے کھولنے والا قرار دیا۔ انہوں نے کہا، "ہم خود انحصاری کو ہندوستان میں ڈیزائن، ترقی اور پیداوار کرنے کی صلاحیت کے طور پر دیکھتے ہیں، وہ بھی قابل اعتماد شراکت داروں کے تعاون سے۔ ہم ایسے ماڈل کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں ہندوستان صرف دفاعی ساز و سامان کا خریدار نہیں بلکہ ڈیزائن، ترقی اور پیداوار میں شراکت دار ہوگا۔ یہ تبدیلی عالمی صنعت کے لیے نئے مواقع پیدا کرتی ہے۔ آج کی باہم جڑی ہوئی دنیا میں شراکت داریاں محض انتخاب نہیں بلکہ ضرورت ہیں۔ جرمنی کے ساتھ ہمارا رشتہ باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہے۔ یہ شراکت داری باہمی فائدہ، مشترکہ ترقی اور طویل مدتی قدر کی تخلیق فراہم کرتی ہے۔"