Jadid Khabar

راج ناتھ نے جرمنی کو دفاعی پیداوار کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے مدعو کیا

Thumb

نئی دہلی، 22 اپریل (یواین آئی) وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ہندوستان اور جرمنی کے درمیان دفاعی ٹیکنالوجی اور سازوسامان  کی مشترکہ ترقی اور تیاری کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
مسٹر سنگھ، جو جرمنی کے تین روزہ دورے پر ہیں، نے کہا کہ ان کی حکومت کی "آتم نربھر بھارت" مہم مشترکہ پیداوار، مشترکہ ترقی اور مشترکہ اختراع کی دعوت ہے۔ میونخ ہوکر برلن پہنچے وزیردفاع نے منگل کو جرمن پارلیمنٹیرینز سے خطاب کرتے ہوئے دونوں ممالک کے دفاعی صنعتی ماحولیاتی نظام کے درمیان تعاون بڑھانے کی بھرپور وکالت کی۔ اپنے دورے کے پہلے روز انہوں نے دفاع و سلامتی سے متعلق جرمن پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا کو نئے سکیورٹی خطرات کا سامنا ہے اور تکنیکی تبدیلی نے صورتحال کو انتہائی پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے ماحول سے ہم آہنگ ہونے کی تیاری کے ساتھ ایک نئے نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔ 
وزیر دفاع نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی دور اندیش قیادت میں ہندوستان دفاعی شعبے میں بے مثال تبدیلی کا مشاہدہ کر رہا ہے اور جرمن صنعت کے ساتھ شراکت داری کو بڑھانے سے دونوں ممالک کو اہم فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ مسٹر سنگھ نے کہا، "ہم جرمنی کے سرکردہ صنعتی اداروں کی قائم کردہ صلاحیتوں کو تسلیم کرتے ہیں نیز  جدید اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں معروف جرمن مِٹیلسٹینڈ (چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں) کے جوش و جذبے اور حرکیات کو سراہتے ہیں۔ ہندوستان میں بھی، ہمارے سٹارٹ اپس اور کاروباری نجی کمپنیاں تیزی سے ہماری قائم کردی دفاعی صنعتقں کی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہی ہیں اور ان کی تکمیل کررہی ہیں۔ یہ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں ہندوستان اور جرمنی قدرتی طور پر ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں اور ہماری شراکت داری مزید گہری ہو سکتی ہے۔
مسٹر سنگھ نے عصری عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مربوط ردعمل اور قابل اعتماد اسٹریٹجک شراکت داری کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی اور جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے دو طرفہ اسٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھانے پر خصوصی زور دیا ہے۔ یورپی یونین کی سطح پر بھی خیالات کی واضح ہم آہنگی نظر آتی ہے اور ہندستان کے ساتھ اس بڑھتی ہوئی مصروفیات کی عکاسی ہوتی ہے، جس میں ہندستان-یورپی یونین دفاعی اور اسٹریٹجک پارٹنرشپ بھی شامل ہے۔
وزر دفاع  نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہندوستان اور جرمنی نہ صرف اسٹریٹجک شراکت دار ہیں بلکہ موجودہ وقت کے عالمی مباحثے کی تشکیل میں نتیجہ خیز آوازیں بھی ہیں۔ انہوں نے کہا، ''ہم مشترکہ اقدار کے پابند جمہوریتیں ہیں اور لچک، اختراع اور ایک پرعزم صنعتی جذبے سے چلنے والی متحرک معیشتیں ہیں۔ قانون سازوں اور کمیٹی کے معزز اراکین کی حیثیت سے آپ کی رہنمائی، آراء اور حمایت ہمارے دفاعی اور اسٹریٹجک تعاون کے مستقبل کے لائحہ عمل کو مزید تقویت بخش سکتی ہے۔