Jadid Khabar

’خواتین ریزرویشن کا استعمال کر مستقل طور پر اقتدار میں رہنے کی سازش تھی‘، بی جے پی کے خلاف پرینکا گاندھی کا جوابی حملہ

Thumb

 
کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے خواتین ریزرویشن اور حد بندی کے معاملے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے خلاف زبردست جوابی حملہ کیا ہے۔ انہوں نے ہفتہ (18 اپریل) کو پریس کانفرنس کر کہا کہ ’’کل جمہوریت کی جیت ہوئی ہے۔ مودی حکومت نے جمہوریت کو کمزور کرنے اور وفاقی ڈھانچے کو بدلنے کی سازش کی تھی، جسے ہم نے شکست دے دی۔ یہ آئین کی جیت ہے، ملک کی جیت ہے، اپوزیشن کے اتحاد کی جیت ہے، جو حکمراں جماعت کے لیڈران کے چہرے پر واضح طور پر نظر آ رہا تھا۔‘‘
پرینکا گاندھی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’’وزیر داخلہ اور وزیر اعظم نے اپنی اپنی تقریروں میں کہا کہ اگر اپوزیشن اس معاملہ پر متفق نہیں ہوگی تو نہ کبھی انتخاب جیت پائے گی اور نہ ہی اقتدار میں آ پائے گی۔ ان باتوں سے ہی واضح ہو گیا کہ حکومت کا ارادہ کیا تھا۔ میران ماننا ہے کہ حکومت کے ذریعہ سازش رچی گئی، اس کا مقصد اقتدار حاصل کرنا ہے۔ اس کے لیے حکومت نے خواتین کا استعمال کیا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’حکومت چاہتی تھی کہ خواتین ریزرویشن کے نام پر اپوزیشن یہ بل پاس کروا دے، تاکہ انہیں من مانے طریقے سے حد بندی کی آزادی مل جائے، جس سے مودی حکومت کو ذات پر مبنی مردم شماری کا سہارا نہ لینا پڑے۔‘‘ ان کے مطابق مودی حکومت کا ماننا تھا کہ اگر بل منظور ہوگا تو ان کی جیت ہوگی اور بل منظور نہیں ہوا تو اپوزیشن کو خواتین مخالف بتا دیں گے۔ بی جے پی ایسا کر کے خود کو خواتین کا مسیحا ثابت کرنا چاہتی تھی۔
کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی کے مطابق خواتین کے حوالے سے بی جے پی کی ایک تاریخ رہی ہے۔ یہ تاریخ انتہائی واضح ہے۔ صرف ایوان میں اس کے برعکس کہنے سے اس پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ملک کی خواتین نے انّاؤ کو دیکھا، ہاتھرس کو دیکھا، خواتین کھلاڑیوں کو دیکھا اور منی پور کی خواتین کو دیکھا۔ مودی حکومت نے کبھی ان کی خبر گیری نہیں کی اور آج پارلیمنٹ میں ’خواتین کا مسیحا‘ بننا چاہتی ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران پرینکا گاندھی نے یہ بھی کہا کہ ’’یہ خواتین ریزرویشن بل کی بات نہیں تھی۔ یہ بات حد بندی سے متعلق تھی۔ مودی حکومت کو حد بندی اس بنیاد پر کرنا تھا، جس میں اسے ذات پر مبنی اعداد و شمار کو دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور من مانی کرنے کی مکمل آزادی ہوتی۔ ایسے میں ممکن ہی نہیں تھا کہ اپوزیشن مودی حکومت کا ساتھ دے۔ پورے ملک نے دیکھ لیا ہے کہ جب اپوزیشن متحد ہوتی ہے تو کیسے مودی حکومت کو شکست دی جاتی ہے۔