مرکزی حکومت نے جمعرات کو لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن بل پیش کیا، جو پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران ایک اہم قانون ساز قدم ہے۔ مرکزی وزیر برائے قانون و انصاف ارجن رام میگھوال نے مجوزہ آئین (131 ویں ترمیم) بل، 2026 پیش کر کے بحث کا آغاز کیا۔ انہوں نے حد بندی بل 2026 بھی پیش کیا، جس سے قانون ساز اداروں میں خواتین کے لیے ایک تہائی ریزرویشن نافذ کرنے پر بحث کا اسٹیج تیار ہو گیا۔ اس کے علاوہ کارروائی کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے قوانین (ترمیم) بل، 2026 پیش کیا، جس سے دن کے قانون سازی ایجنڈے میں ایک اور بل کا اضافہ ہو گیا۔
پارلیمنٹ میں ان بلوں کے پیش کیے جانے پر اپوزیشن نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے تینوں بلوں کی مخالفت اور ایوان میں پارٹی کے اعتراضات کو باضابطہ طور پر درج کرایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’حکومت ایوان کو مکمل طور پر اپنے قبضے میں کر لینا چاہتی ہے۔‘‘ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے واضح کیا ہے کہ بل ابھی پیش کیے گئے ہیں اور ان پر بحث ابھی باقی ہے۔ جب وینو گوپال دیر تک بولتے رہے تو لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے مداخلت کرتے ہوئے انہیں یاد دلایا کہ بحث کے دوران مناسب وقت دیا جائے گا۔
سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو نے بھی ان بلوں پر اعتراض کرتے ہوئے ریزرویشن کے ڈھانچے سے مسلم خواتین کو باہر رکھے جانے پر تشویش کا اظہار کیا۔ رجیجو نے فوری طور پر اس تبصرے کی تردید کرتے ہوئے اسے غیر آئینی قرار دیا۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے کہا کہ ان کی پارٹی اصولی طور پر خواتین کے ریزرویشن کی حمایت کرتی ہے، لیکن انہوں نے مردم شماری کرانے میں ہونے والی تاخیر پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’وہ مردم شماری میں تاخیر کر رہے ہیں کیونکہ جب یہ ہو گی، تو ہم ذات پات پر مبنی مردم شماری کا مطالبہ کریں گے اور وہ ایسا نہیں چاہتے ہیں۔‘‘
اکھلیش یادو کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ ’’ملک بھر میں مردم شماری کا عمل شروع ہو چکا ہے اور اس کے بعد ہم ذات پات پر مبنی مردم شماری بھی کریں گے۔ فی الحال، گھروں کی فہرست بنانے کا کم چل رہا ہے، گھر کسی خاص ذات کے نہیں ہوتے۔ اگر سماجوادی پارٹی کی بات مان لی گئی تو وہ گھروں کو بھی ذات کا درجہ دے دیں گے۔‘‘ وزیر داخلہ نے دھرمیند یادو کے تبصروں پر نتقید کرتے ہوئے انہیں غیر آئینی قرار دیا اور زور دے کر کہا کہ آئین ریزرویشن کے معاملوں میں مذہبی بنیاد پر تفریق کی اجازت نہیں دیتا ہے۔
دوسری جانب اکھلیش یادو نے مسلم طبقہ کے بارے میں امت شاہ کے تبصروں کو غیر جمہوری قرار دیا۔ امت شاہ نے سخت الفاظ میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہم سماجوادی پارٹی کو اپنے تمام ٹکٹ مسلم خواتین کو دینے سے نہیں روک رہے ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ لوک سبھا میں بحث جاری رہنے کی امید ہے، جس میں حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی مجوزہ ترامیم اور ایوانوں میں خواتین کی نمائندگی کے وسیع تر معاملے پر اپنا اپنا موقف پیش کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔