انل امبانی کو سپریم کورٹ سے بینک فراڈ معاملے پر نہیں ملی راحت
صنعت کار انل امبانی کو ایک بار پھر سپریم کورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ عدالت نے انل امبانی اور ان کی کمپنی کی وہ عرضی خارج کر دی جس میں ’آر سی او ایم‘ کے بینک کھاتوں کو فراڈ قرار دینے کی کارروائی پر روک لگانے کا مطالبہ کیا گیا تھا، جس میں کھاتوں کو فراڈ ماننے پر ملی عبوری راحت کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔ ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق یہ معاملہ 40000 کروڑ سے زائد کی مبینہ بینک دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ سے متعلق ہے۔
چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باغچی اور جسٹس وپُل ایم پنچولی کی 3 ججوں پر مشتمل بنچ نے انل امبانی کی عرضی کو خارج کرتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو بھی برقرار رکھا، جس میں سنگل بنچ کے ذریعہ دی گئی عبوری راحت کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کے اس حکم کے بعد اب بینکوں کے لیے کھاتوں کو فراڈ قرار دینے کی اجازت دینے والے ہائی کورٹ کے فیصلے کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے راحت کی مدت کو آگے بڑھانے سے واضح طور پر منع کر دیا ہے۔ عدالت نے ہائی کورٹ کو زیر التوا دیوانی مقدموں کو تیزی سے نمٹانے کی بھی ہدایت دی ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے کی تحقیقات میں مصروف مرکزی ایجنسیوں کے رویے پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ سپریم کورٹ نے انل امبانی گروپ کی کمپنیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کو لے کر سی بی آئی اور ای ڈی کی عدم دلچسپی اور ہچکچاہٹ پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ عدالت نے ایجنسیوں کو پھٹکار لگاتے ہوئے تحقیقات میں تیزی لانے کی ہدایت دی تھی۔
قابل ذکر ہے کہ انل امبانی کی کمپنی ’آر سی او ایم‘ اور اس کی معاون کمپنیوں پر بینکوں کے ساتھ 40000 کروڑ سے زیادہ کی دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ کے الزام ہیں۔ لون اکاؤنٹ کے فراڈ کلاسیفیکیشن میں شامل ہونے سے بچنے کے لیے انل امبانی نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ عدالت کے موقف سے واضح ہے کہ مالی بے ضابطگیوں کے معاملوں میں اب کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔