جے پور، 15 اپریل (یو این آئی) راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے کہا ہے کہ کانگریس نے ہمیشہ خواتین کے ریزرویشن کی حمایت کی ہے، تاہم اس کے نام پر قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) حکومت کی جانب سے جلد بازی میں 131واں آئینی ترمیمی بل لانے کی تیاری شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس رہنما سونیا گاندھی نے خواتین کے ریزرویشن کے لیے پہل کی تھی اور یو پی اے حکومت کے دوران راجیہ سبھا سے یہ بل منظور کرایا گیا تھا۔ مسٹر گہلوت نے سوال کیا کہ آخر ایسی کون سی ہنگامی صورتحال ہے کہ انتخابات کے دوران اتنی عجلت دکھائی جا رہی ہے اور کیا یہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ جب نئی مردم شماری کا عمل جاری ہے تو 2011 کے اعداد و شمار کی بنیاد پر حلقہ بندی کرنا جمہوریت اور نئے ووٹروں کے ساتھ ناانصافی ہوگی، اور یہ شمال و جنوب ہند کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حساس معاملات پر ہمہ گیر مشاورت کے بجائے یکطرفہ فیصلے کیے جا رہے ہیں، جبکہ جمہوریت اتفاق رائے سے چلتی ہے، نہ کہ من مانی سے، اس لیے حکومت کو تمام فریقوں سے باضابطہ مشاورت کرنی چاہیے۔