کانگریس نے خواتین ریزرویشن کے معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ انہوں نے اس حساس موضوع پر تقریباً ڈھائی برس بعد یوٹرن لیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی کسی اصولی مؤقف کا نتیجہ نہیں بلکہ سیاسی مجبوری اور آئندہ اسمبلی انتخابات میں خواتین ووٹروں کو متاثر کرنے کی کوشش ہے۔
کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کو ملک کی خواتین سے معافی مانگنی چاہیے۔ ان کے مطابق، وزیر اعظم خود کو خواتین ریزرویشن کا سب سے بڑا حامی ظاہر کرنے کے لیے میڈیا میں مضامین لکھ رہے ہیں، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
جے رام رمیش نے اپنے بیان میں کہا کہ جب ناری شکتی وندن قانون 2023 میں پارلیمنٹ سے متفقہ طور پر منظور ہوا تھا، اس وقت کانگریس نے مطالبہ کیا تھا کہ اسے 2024 سے نافذ کیا جائے، لیکن حکومت نے اس پر کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس قانون کو مردم شماری اور حلقہ بندی جیسے عوامل سے جوڑ کر اس کے نفاذ کو غیر ضروری طور پر مؤخر کر دیا۔
کانگریس رہنما نے مزید کہا کہ حکومت مردم شماری کرانے میں ناکام رہی اور اسے مسلسل ٹالتی رہی، جس کے باعث خواتین ریزرویشن کا معاملہ بھی لٹکا رہا۔ ان کے مطابق، اب جبکہ مغربی بنگال اور تمل ناڈو جیسے اہم ریاستوں میں انتخابات قریب ہیں اور حکمراں جماعت کو ممکنہ شکست کا سامنا دکھائی دے رہا ہے، تو حکومت نے اپنا مؤقف بدل لیا ہے۔
جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ یہ یوٹرن اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کے پاس نہ تو کوئی واضح منصوبہ ہے اور نہ ہی وہ اپوزیشن کے ساتھ سنجیدہ مشاورت کے لیے تیار رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم اپنے اس فیصلے کا کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ حقیقت میں یہ ان کی پالیسی ناکامیوں کو چھپانے کی ایک کوشش ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کی جانب سے یہ قدم دراصل ان ریاستوں میں خواتین ووٹروں کو لبھانے کے لیے اٹھایا گیا ہے جہاں دیگر مسائل پر حکمراں جماعت کے پاس کوئی مضبوط بیانیہ نہیں ہے۔
دوسری جانب وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ خواتین ریزرویشن صرف ایک قانون سازی کا عمل نہیں بلکہ ملک کی کروڑوں خواتین کی امنگوں کی عکاسی ہے۔ انہوں نے تمام اراکین پارلیمنٹ سے اس اقدام کی حمایت کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
وزیر اعظم کے مطابق، کسی بھی معاشرے کی ترقی خواتین کی ترقی سے جڑی ہوتی ہے اور یہی اصول ہندوستانی تہذیبی نظریہ کی بنیاد رہا ہے۔ تاہم، اپوزیشن اس دعوے کو سیاسی بیان بازی قرار دیتے ہوئے حکومت کی نیت پر سوال اٹھا رہی ہے۔