نئی دہلی: الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس یشونت ورما نے فوری اثر سے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اور یہ استعفیٰ انہوں نے صدر دروپدی مرمو کو ارسال کیا ہے۔ اس پیش رفت کے ساتھ ہی ان کے خلاف جاری مواخذہ کارروائی کے دوران ان کے عدالتی کیریئر کا اچانک اختتام ہو گیا، جس نے قانونی حلقوں سے وابستہ افراد کو حیران کر دیا۔
اپنے استعفیٰ نامہ میں جسٹس یشونت ورما نے لکھا کہ وہ اس معزز منصب پر ایسے اسباب کا بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے جنہوں نے انہیں یہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔ انہوں نے گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس عہدے پر خدمات انجام دینا ان کے لیے باعثِ اعزاز رہا ہے۔ ان کے اس خط کی ایک نقل ہندوستان کے چیف جسٹس سوریہ کانت کو بھی بھیجی گئی ہے۔
یاد رہے کہ جسٹس ورما گزشتہ سال 14 مارچ 2025 سے ایک متنازع معاملے کے باعث خبروں میں رہے، جب ان کے دہلی ہائی کورٹ کے دورِ تعیناتی کے دوران الاٹ کیے گئے سرکاری رہائش کے احاطے میں واقع ایک آؤٹ ہاؤس سے جلی ہوئی نقدی برآمد ہونے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ اس واقعے نے عدالتی نظام کی شفافیت اور احتساب پر سنجیدہ سوالات کھڑے کیے تھے۔
اس تنازعہ کے بعد جولائی 2025 میں لوک سبھا کے 145 اور راجیہ سبھا کے 63 اراکین کی حمایت سے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ان کے خلاف مواخذہ کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ اس کے بعد لوک سبھا کے اسپیکر نے ججز (انکوائری) ایکٹ 1968 کے تحت ایک 3 رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی، جس کا مقصد ان الزامات کی مکمل جانچ کرنا تھا۔
جسٹس یشونت ورما نے اس کمیٹی کے قیام کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ دونوں ایوانوں میں ایک ساتھ پیش کیے گئے مواخذہ کی تجاویز کے لیے تحقیقاتی کمیٹی بنانے سے قبل لوک سبھا اسپیکر اور راجیہ سبھا کے چیئرمین کے درمیان مشترکہ مشاورت ضروری تھی۔ تاہم سپریم کورٹ نے ان کی اس عرضی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کسی بھی طرح کی راحت کے مستحق نہیں ہیں۔
سپریم کورٹ کی بنچ، جس میں جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس ستیش چندر شرما شامل تھے، نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ داخلی تحقیقاتی عمل منصفانہ اور شفاف تھا اور اس سے عدلیہ کی خودمختاری پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ عدالت نے اس بات کو بھی مسترد کیا کہ کارروائی میں کسی طرح کی قانونی خامی پائی گئی ہو۔
داخلی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ نقدی پر جسٹس ورما کا خفیہ یا فعال کنٹرول تھا۔ اسی بنیاد پر اس وقت کے چیف جسٹس سنجیو کھنہ نے ان کے خلاف برطرفی کی کارروائی شروع کرنے کی سفارش کی تھی، جس کے بعد پارلیمانی تحقیقاتی عمل آگے بڑھا۔
بعد ازاں مدراس ہائی کورٹ کے چیف جسٹس منیندر موہن شریواستو کی سبکدوشی کے بعد اس تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل میں حال ہی میں تبدیلی بھی کی گئی تھی۔ تاہم اب جسٹس یشونت ورما کے استعفیٰ کے بعد یہ پورا معاملہ ایک نئے موڑ پر پہنچ گیا ہے اور قانونی ماہرین اس کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔