مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان اب آبنائے ہرمز کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران نے جہاز رانی کی محفوظ آمدورفت کے لیے متبادل سمندری راستوں کا اعلان کیا ہے جس سے عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی سُست پڑسکتی ہے۔
اس سلسلے میں ایران کے پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کی بحریہ نے ایک بیان جاری کرکے کہا کہ میری ٹائم سیکیورٹی کو اولین ترجیح کے طور پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ آئی آر جی سی بحریہ نے تمام مال بردار بحری جہازوں اور بارجز کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان نئے مقرر کردہ راستوں پر عمل کریں۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ جہازوں کی نقل و حرکت آئی آر جی سی کی کڑی نگرانی میں ہو۔ غور طلب ہے کہ دنیا کی تیل کی آمدورفت کا 20 فیصد اسی آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے جس کی وہ سے سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوگیا تھا۔
ایران نے یہ قدم دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی کے حصے کے طور پر اٹھایا ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر دوبارہ کھولا گیا ہے۔ آئی آر جی سی نیوی کی جانب سے جاری کی گئی نئی تفصیل کے مطابق بحیرہ عمان سے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے بحری جہاز اب جزیرہ لارک کے شمالی حصے سے گزریں گے اور پھر خلیج کی طرف بڑھیں گے۔ یہ راستہ ممکنہ خطرات سے بچتے ہوئے جہازوں کے لیے محفوظ داخلہ فراہم کرے گا۔
وہیں خلیج سے نکلنے والے بحری جہازوں کے لیے ایک نیا راستہ بھی قائم کیا گیا ہے۔ یہ بحری جہاز لارک جزیرے کے جنوبی حصے سے ہوتے ہوئے بحیرہ عمان کی طرف روانہ ہوں گے۔ اس سلسلے میں ایران کا کہنا ہے کہ ان نئے راستوں کا مقصد بحری جہازوں کو محفوظ اور بغیر کسی رکاوٹ کے گزرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ یہ قدم آبی گزرگاہ میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے اور بین الاقوامی جہاز رانی کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم اقدام ہے۔