Jadid Khabar

جے رام رمیش نے مودی حکومت پر تنقید کی، مغربی ایشیا میں جنگ بندی عالمی توجہ کا مرکز

Thumb

نئی دہلی، 08 اپریل (یو این آئی) کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے بدھ کے روز مغربی ایشیا کے تنازعہ میں مبینہ دو ہفتوں کی جنگ بندی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس پیش رفت کا پوری دنیا میں محتاط خیر مقدم کیا جائے گا، ساتھ ہی انہوں نے مرکز کی خارجہ پالیسی کے طریقہ کار پر شدید تنقید بھی کی۔
رمیش نے ایک بیان میں کہا، "پوری دنیا مغربی ایشیا کے تنازعہ میں ایک طرف امریکہ اور اسرائیل اور دوسری طرف ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا محتاط خیر مقدم کرے گی۔" انہوں نے اس کا حوالہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری دشمنی کے تناظر میں دیا۔
بحران کا پس منظر بیان کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ "تنازعہ کا آغاز 28 فروری کو ایران میں حکومت کے اعلیٰ ترین عہدیداروں کونشانہ بناکر کیئے گئے  قتل  سے ہوا تھا،" اور اس ٹائم لائن کو وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ دورہ اسرائیل سے جوڑا۔ رمیش نے الزام لگایا کہ اس دورے نے "ہندوستان کے عالمی قد اور ساکھ کو کم کیا،" انہوں نے مزید کہا کہ مودی نے غزہ یا مغربی کنارے میں اسرائیل کے اقدامات پر آواز نہیں اٹھائی۔
کانگریس لیڈر نے جنگ بندی میں سہولت کاری کے حوالے سے پاکستان کے کردار پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے حکومت کی سفارتی حکمت عملی کے لیے ایک "شدید دھچکا" قرار دیا۔ انہوں نے کہا، "جموں و کشمیر میں دہشت گردی کی مسلسل حمایت پر پاکستان کو تنہا کرنے اور دنیا کو یہ باور کرانے کی پالیسی کہ وہ ایک ناکام ریاست ہے، واضح طور پر کامیاب نہیں ہوئی،" انہوں نے اس کا موازنہ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے دور میں 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد حاصل ہونے والی سفارتی کامیابیوں سے کیا۔
مسٹررمیش نے  حکومت کی جانب سے "آپریشن سندور"  کے انتظام پر سوال اٹھایا اور پوچھا کہ اسے "10 مئی 2025 کو اچانک اور غیر متوقع طور پر کیوں روک دیا گیا،" انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اس کے ابتدائی اعلانات امریکی حکام کی جانب سے سامنے آئے تھے۔ انہوں نے وزیر خارجہ جے شنکر کے پاکستان کے بارے میں ریمارکس پر بھی تنقید کی اور مودی کی عالمی پوزیشننگ کو نشانہ بنایا۔
جے رام رمیش نے کہا، "ہر طرف راحت  کا ایک واضح احساس پایا جاتا ہے،" لیکن ساتھ ہی ایک تندوتیز سیاسی حملہ کرتے ہوئے وزیر اعظم پر کلیدی بین الاقوامی پیش رفت پر خاموش رہنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مودی نے اسرائیل کے اقدامات یا واشنگٹن میں رہنماؤں کی جانب سے استعمال کی جانے والی "مکمل طور پر ناقابل قبول اور شرمناک زبان" کا جواب نہیں دیا ہے۔
یہ بیان خارجہ پالیسی پر کانگریس اور حکمران حکومت کے درمیان سیاسی رسہ کشی کے درمیان سامنے آیا ہے، خاص طور پر مغربی ایشیا کے تنازعات اور عالمی طاقتوں کے ساتھ ہندوستان کی وسیع تر سفارتی شمولیت پر۔