نئی دہلی، 07 اپریل (یو این آئی) کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے منگل کو مرکز پر الزام لگایا کہ وہ بڑے سرکاری ٹھیکوں سے پسماندہ طبقات کے "منظم اخراج" کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے پاس بڑے پیمانے پر سرکاری کاموں میں دلت، آدیواسی اور پسماندہ طبقے کے کاروباریوں کی شرکت سے متعلق کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر ایک پوسٹ میں گاندھی نے کہا کہ انہوں نے پارلیمنٹ میں یہ مسئلہ اٹھایا تھا اور گزشتہ سال دیے گئے 16,500 کروڑ روپے کے سرکاری ٹھیکوں کی تفصیلات طلب کی تھیں۔ انہوں نے لکھا "میں نے پارلیمنٹ میں حکومت سے پوچھا کہ گزشتہ سال دیے گئے 16,500 کروڑ روپے کے سرکاری کاموں کے ٹھیکوں میں سے کتنے دلتوں، آدیواسیوں اور پسماندہ طبقات کی ملکیت والے کاروباروں کو دیے گئے؟"
حکومت کے جواب کو "انتہائی تشویشناک" قرار دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ "حکومت اس حوالے سے کوئی ڈیٹا نہیں رکھتی۔"
راہل گاندھی نے موجودہ خریداری کے اصولوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ پالیسی کے تحت مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای ) سے 25 فیصد سرکاری خریداری لازمی ہے، جس میں سے 4 فیصد دلت اور آدیواسی کاروباریوں کے لیے مختص ہے۔ تاہم، انہوں نے الزام لگایا کہ بڑے سرکاری کام کے ٹھیکوں کے معاملے میں ان دفعات پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا "جب سب سے بڑے اور منافع بخش ٹھیکوں-سرکاری کام-کی بات آتی ہے، تو حکومت کہتی ہے کہ یہ 'لازمی' نہیں ہے۔"
اس مسئلے کو محض ایک انتظامی کوتاہی کے بجائے گہرا ڈھانچہ جاتی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ یہ مودی حکومت کی پالیسیوں کے ذریعے جان بوجھ کرالگ کرنے کا بنایا گیا ایک نظام ہے، جو سماجی اور اقتصادی انصاف کو نقصان پہنچاتا ہے۔ انہوں نے معاشی مواقع تک مساوی رسائی کے بارے میں وسیع تر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا: "بہوجن کاروباریوں کو ملک کے سب سے بڑے سرکاری ٹھیکوں سے باہر کیوں رکھا جا رہا ہے؟"
یہ ریمارکس معاشی پالیسی میں شمولیت اور مثبت اقدامات پر جاری سیاسی بحث کے درمیان سامنے آئے ہیں۔ سرکاری خریداری کو نمائندگی سے محروم کمیونٹیز میں انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ حکومت نے خریداری کے عمل میں چھوٹے اداروں کی شرکت بڑھانے کے لیے اقدامات کیے ہیں، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ عمل درآمد میں کمی اور شفافیت کا فقدان ان کے فوائد کو محدود کر رہا ہے۔ پبلک اسپینڈنگ (سرکاری اخراجات) میں ڈیٹا کے انکشاف اور جوابدہی کا یہ معاملہ آنے والے وقت میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بحث کا مرکز رہنے کا امکان ہے۔
یواین آئی ۔ایف اے