نئی دہلی، 6 اپریل (یو این آئی) سینئر کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے پیر کو الزام لگایا کہ "نہ کھاؤں گا، نہ کھانے دوں گا" کا نعرہ ایک "مکمل دھوکہ" ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے یہ الزام سپریم کورٹ آف انڈیا کی اس ہدایت کے تناظر میں لگایا ہے جس میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی ) کو اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ کے خاندان کے افراد کو مبینہ طور پر دیے گئے ٹھیکوں کی ابتدائی انکوائری شروع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
جے رام رمیش نے کہا، "یہ تو ابھی شروعات ہے۔" انہوں نے اشارہ دیا کہ دیگر ریاستوں میں بھی اسی طرح کے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا، "کئی دیگر ریاستوں میں بھی ایسے ہی معاملے ہیں، جہاں خاندان کے لوگوں کو فائدہ پہنچایا گیا ہے،" اور مزید کہا کہ شمال مشرق کے کم از کم ایک اور وزیر اعلیٰ جلد ہی تحقیقات کے دائرے میں آ سکتے ہیں۔
سپریم کورٹ کا یہ حکم مفادات کے ٹکراؤ اور عوامی ٹھیکوں کی الاٹمنٹ میں عہدے کے غلط استعمال کے الزامات کے درمیان آیا ہے۔ اگرچہ عدالت نے اس معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں سنایا، لیکن اسے سی بی آئی کے ذریعے ابتدائی جانچ کی ہدایت دینے کے لیے کافی بنیادیں ملیں، جو کہ نتائج کی بنیاد پر مکمل تحقیقات کی طرف لے جا سکتی ہے۔
رمیش نے دلیل دی کہ یہ پیش رفت گورننس کے ایک گہرے مسئلے کو بے نقاب کرتی ہے۔ سیاسی گفتگو میں اکثر نمایاں کیے جانے والے انسدادِ بدعنوانی کے ایجنڈے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، "یہ نعرہ صرف ایک جملہ بن کر رہ گیا ہے۔ اب دھیرے دھیرے سچ سامنے آ رہا ہے۔" ان ریمارکس نے اپوزیشن اور حکمراں طبقے کے درمیان سیاسی تلخی کو تیز کر دیا ہے، جبکہ حکومت کا موقف ہے کہ انکوائری ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس سے قبل از وقت نتائج اخذ کرنے کے خلاف خبردار کیا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سی بی آئی کی ابتدائی انکوائری کا مقصد یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ آیا باقاعدہ کیس درج کرنے کے لیے کافی ثبوت موجود ہیں یا نہیں۔ ایک قانونی تجزیہ کار نے واضح کیا، "اس مرحلے پر کسی کو قصوروار ٹھہرانا ٹھیک نہیں ہوگا۔ انکوائری کے بعد ہی تصویر صاف ہوگی۔"
جیسے ہی تحقیقاتی عمل شروع ہوا ہے، توقع ہے کہ یہ معاملہ سیاسی طور پر گرم رہے گا، جہاں اپوزیشن لیڈر احتساب پر زور دے رہے ہیں جبکہ حکومت ادارہ جاتی طریقہ کار اور شواہد پر مبنی نتائج کی اہمیت پر زور دے رہی ہے۔ حکومتی ذرائع نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بھی الزام کو حقیقت تسلیم کرنے سے پہلے قانون کواپنا کام مکمل کرنے دینا چاہیے۔