Jadid Khabar

اساتذہ، باورچیوں اور انسٹرکٹرز کو پانچ لاکھ روپے کی کیش لیس طبی سہولت: یوگی

Thumb

وارانسی، 4 اپریل (یو این آئی) وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ہفتہ کو 'اسکول چلو ابھیان' کے آغاز کے موقع پر کہا کہ ریاست میں ڈراپ آؤٹ کی شرح کو صفر کرنا حکومت اور محکمہ تعلیم کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اساتذہ اور افسران سے اس سمت میں مل کر کام کرنے کی اپیل کی۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اتر پردیش میں اسکولی تعلیم پر تقریباً 80 ہزار کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں اور اس کے مطابق نتائج بھی سامنے آنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اساتذہ، باورچیوں اور انسٹرکٹرز کے لیے اہم فیصلے لیے ہیں۔ انسٹرکٹرز کو 17 ہزار روپے اور شکشا متروں کو 18 ہزار روپے ماہانہ اعزازیہ دیا جا رہا ہے۔ ۔ اس کے ساتھ ہی اساتذہ، باورچی اور انسٹرکٹرز، ان سب کو 5 لاکھ روپے تک کی کیش لیس طبی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
یوگی نے بنیادی محکمہ تعلیم کی کوششوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ جہاں پہلے کستوربا گاندھی بالیکا ودیالیہ نہیں تھے، وہاں اب بجٹ فراہم کر کے انہیں قائم کیا گیا ہے اور انہیں 12ویں تک وسعت دی گئی ہے۔ مزدوروں اور بے سہارا بچوں کے لیے اٹل رہائشی اسکول شروع کیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہر ضلع میں پہلے دو کمپوزٹ اسکول تھے، جبکہ اب بجٹ میں دو اضافی اسکول بنائے جا رہے ہیں، جہاں پری پرائمری سے لے کر 12ویں تک ایک ہی احاطے میں تعلیم کی سہولت ملے گی۔ ساتھ ہی بال واٹیکاؤں کی تعمیر تیزی سے کی جا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پہلے کئی طالبات بنیادی سہولیات کے فقدان میں مشکل حالات میں اسکول جاتی تھیں، لیکن اب حکومت کی جانب سے بیگ، کتابیں اور یونیفارم مفت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ والدین کے کھاتوں میں 1200 روپے بھی بھیجے جا رہے ہیں۔
انہوں نے اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ والدین سے رابطہ کر کے بچوں کا داخلہ یقینی بنائیں اور انہیں سرکاری سہولیات کا فائدہ دلائیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ "میں آج بھی اپنے اساتذہ کا احترام کرتا ہوں۔" انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ چترکوٹ کے ضلع مجسٹریٹ نے اپنے بچے کا داخلہ آنگن واڑی مرکز میں کرایا ہے۔