امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ ملک سے خطاب کے بعد ایک طرف ہندوستانی شیئر بازار میں ہلچل پیدا ہو گئی ہے، اور دوسری طرف سونے و چاندی کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ دیکھنے کو ملی ہے۔ دراصل ٹرمپ کے تازہ بیانات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ آئندہ 2 سے 3 ہفتوں میں امریکہ کوئی بڑا قدم اٹھا سکتا ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی بیان دیا، جس میں کہا کہ امریکہ اس راستہ سے تیل نہیں لاتا، اس لیے جو ممالک اس راستے سے تیل منگاتے ہیں وہ فکر کریں اور آگے آئیں، امریکہ مدد کر سکتا ہے۔
اس بیان کے بعد ڈالر میں نمایاں مضبوطی آئی، جس کے باعث عالمی سطح سے لے کر ایم سی ایکس تک سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑی کمی دیکھنے کو ملی۔ چاندی کی قیمت تقریباً 13,000 روپے گر کر 2,29,888 روپے فی کلوگرام پر آ گئی، جو عالمی حالات کا مظہر ہے۔ اسی طرح سونے کی قیمت میں بھی بھاری گراوٹ دیکھنے کو ملی ہے۔ ملٹی کموڈیٹی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 2200 روپے کم ہو کر 1,51,161 روپے فی 10 گرام ہو گئی۔ عالمی منڈی میں بھی سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں سونا 2.15 فیصد گر کر 4,710.95 ڈالر فی اونس پر آ گیا، جبکہ چاندی کی قیمت 5.20 فیصد گر کر 72.108 ڈالر فی اونس رہ گئی۔
جہاں تک شیئر مارکیٹ کا سوال ہے، امریکی صدر کی تقریر میں جنگ کے فوری خاتمہ کے اشارے نہ ملنے سے پورا ایشیائی بازار دباؤ میں آ گیا ہے۔ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 105 ڈالر تک پہنچ گئی، ہے جس کا اثر جمعرات کو ہندوستانی شیئر بازار پر بھی واضح نظر آیا۔ دلال اسٹریٹ کھلتے ہی تیزی سے نیچے آ گیا۔ گزشتہ بدھ کو جہاں اہم اشاریے سنسیکس اور نفٹی 50 ڈیڑھ فیصد سے زیادہ اضافے کے ساتھ بند ہوئے تھے، وہیں آج آغاز کے ساتھ ہی تقریباً ڈیڑھ فیصد نیچے آ گئے۔ سنسیکس تقریباً 1500 پوائنٹس کی گراوٹ کے ساتھ کھلا، اور ایک ہی منٹ میں سرمایہ کاروں کو تقریباً 11 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہو گیا۔ بی ایس ای کا مارکیٹ کیپ جو بدھ کو 422.01 لاکھ کروڑ روپے تھا، وہ گھٹ کر تقریباً 412 لاکھ کروڑ روپے رہ گیا۔ صبح 09:16 بجے سنسیکس 1,385.82 پوائنٹس یا 1.89 فیصد گر کر 71,748.50 پر تھا، جبکہ نفٹی 426.40 پوائنٹس یا 1.88 فیصد کم ہو کر 22,253.00 پر آ گیا۔ تقریباً 566 شیئرز میں اضافہ ہوا، 1823 میں کمی آئی اور 130 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔