Jadid Khabar

مشرق وسطی کی جنگ کا اثر، سری لنکا میں چھٹی، پاکستان میں تنخواہ کٹوتی، نیپال میں پٹرول سے مہنگا ڈیزل

Thumb

ایران اور اسرائیل۔ امریکہ کے درمیان جنگ کے بعد مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور توانائی کے شدید بحران نے جنوبی ایشیائی ممالک کی کمرتوڑ کر رکھ دی ہے۔ پاکستان کے بعد اب سری لنکا نے بھی ایندھن کی شدید قلت کے سامنے گھنٹے ٹیک دیئے ہیں۔ نیپال نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ ہندوستان بھی مشرق وسطیٰ کے بحران کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ہندوستان کا اسٹاک مارکیٹ 5000 پوائنٹس سے زیادہ نیچے آچکا ہے۔ حالانکہ گیس کی قلت پر قابو پانے کی بات کہی جارہی ہے لیکن کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جنہوں نے آفت میں موقع تلاش لیا ہے اور وہ خوب اپنی تجوریاں بھر رہے ہیں۔

وہیں سری لنکا کو بھی توانائی کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس دوران ایک سخت اور تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے سری لنکا حکومت نے پیر کو ملک میں ’4 روزہ ورکنگ ہفتہ‘ نافذ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اس حکم کے بعد سرکاری اداروں، اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں ہفتے میں صرف 4 دن ہی کام ہوگا۔ وہیں ایندھن کی بچت کے لیے اب ہر بدھ کو سرکاری دفاتر اور تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند رہیں گے۔ اس دوران سری لنکا کی حکومت نے عوام سے پیٹرول اور ڈیزل کا استعمال کفایت شعاری سے کرنے کی اپیل کی ہے۔ حکومت نے کہا کہ یہ قدم نقل و حمل میں استعمال ہونے والے تیل کی کھپت کو کم کرنے کے لیے ضروری ہو گیا ہے۔
دوسری طرف پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ کے بحران کے درمیان سرکاری کمپنیوں اور خود مختار اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں 5 سے 30 فیصد کٹوتی کی منظوری دی ہے۔ افغانستان کے ساتھ جاری جنگ کے درمیان پاکستان کو مشرق وسطیٰ کے بحران کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کی معیشت بری طرح تباہ ہو چکی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے پاکستان نے سخت اقدامات کیے ہیں۔
پاکستان میں سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن منظوری میں 50 فیصد کمی کی جائے گی۔ وہیں کارپوریشنز اور اداروں کے بورڈ میں نمائندگی کرنے والے لوگوں کو اب کوئی شراکت داری فیس (سیٹنگ فیس) نہیں ملے گی۔ اس کے علاوہ سرکاری خریداری پر بھی مکمل پابندی ہے۔ سرکاری افسران، وزراء، وزرائے مملکت اور معاونین خصوصی کے تمام غیر ملکی سفر پر سختی سے پابندی رہے گی۔ پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ جب کہ سرکاری دفاتر میں 4 روزہ ورکنگ ہفتہ نافذ کر دیا گیا ہے۔
اسی طرح نیپال آئل کارپوریشن نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے اور سپلائی مینجمنٹ میں چیلنجز کی وجہ سے کیا گیا۔ پیٹرول کی قیمت میں 31 روپے فی لیٹر، ڈیزل کی قیمت میں 54 روپے فی لیٹر اور ایل پی جی گیس کی قیمت میں 296 روپے فی سلنڈر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ قیمتوں میں اضافے کے بعد اب پیٹرول کی قیمت 188 روپے فی لیٹر، ڈیزل کی قیمت 196 روپے فی لیٹر اور ایل پی جی کی قیمت 2126 روپے فی سلنڈر مقرر کی گئی ہے۔
دوسری طرف  یوکرین میں جنگ لڑنے والے روس کے لیے ایران اور اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ ایک لاٹری کی طرح ہے۔ مغربی ممالک نے روس پر متعدد اقتصادی پابندیاں عائد کی تھیں جن کا مقصد اسے معاشی طور پر تباہ کرنا تھا۔ لیکن ایران۔ اسرائیل جنگ سے بازی پلٹ گئی ہے۔ روس کے پاس دنیا کو دینے کے لیے کافی تیل اور گیس موجود ہے۔ اس صورتحال میں روس نے تیل کی قیمت بڑھا دی ہے۔