Jadid Khabar

جے رام رمیش نے کیا کیشوانند بھارتی مقدمہ کی کتاب کا ذکر، بنیادی ڈھانچے کے نظریہ کی تشکیل کی غیر معمولی تفصیلات

Thumb

کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکن جے رام رمیش نے ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے کیشوانند بھارتی مقدمہ سے متعلق ایک اہم کتاب اور اس میں شامل ایک تاریخی خط کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان کے سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے راجیہ سبھا میں اپنی واحد تقریر کے دوران اسی کتاب کا حوالہ دیا تھا۔

جے رام رمیش کے مطابق سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی آج راجیہ سبھا کے نامزد رکن کی حیثیت سے اپنی مدت مکمل کر چکے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سات اگست 2023 کو راجیہ سبھا میں کی گئی اپنی واحد تقریر میں رنجن گوگوئی نے ٹی آر اندھیاروجینا کی کتاب ’کیشوانند بھارتی مقدمہ‘ کا خاص طور پر ذکر کیا تھا۔
اس کتاب میں سپریم کورٹ کے اس تاریخی فیصلے کی پس منظر کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں جس کے ذریعے 24 اپریل 1973 کو عدالت عظمیٰ نے آئین کے ’بنیادی ڈھانچے‘ کا نظریہ قائم کیا تھا۔ جے رام رمیش کے مطابق اس کتاب میں عدالت کے اندر ہونے والی قانونی بحثوں اور آئینی کشمکش کی غیر معمولی اور دستاویزی تفصیلات موجود ہیں، اسی لیے ہندوستان کی سیاسی اور قانونی تاریخ میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ کتاب نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔
انہوں نے اپنی پوسٹ میں اس کتاب کی ایک اور خاص بات کی طرف توجہ دلائی۔ جے رام رمیش کے مطابق یہی وہ واحد کتاب ہے جس میں ممتاز ماہر قانون نانی پالکھی والا کا نو نومبر 1975 کو اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو لکھا گیا خط مکمل طور پر شائع ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نانی پالکھی والا کی کسی بھی سوانح حیات میں اس خط کا ذکر نہیں ملتا۔
یہ بھی پڑھیں : ’برکس صدارت کے باوجود ایران پر حملوں کے معاملے میں اجتماعی بیان کیوں جاری نہیں ہوا؟‘، جے رام رمیش کا مودی حکومت پر سوال
اس خط میں نانی پالکھی والا نے بارہ جون 1975 کو الہ آباد ہائی کورٹ کے سنگل جج بنچ کے اس فیصلے کو سختی سے مسترد کیا تھا جس نے ہندوستان کی سیاست کی سمت بدل دی تھی۔ انہوں نے اندرا گاندھی کو لکھے گئے اپنے خط میں اس فیصلے کو حقائق اور قانون دونوں کے اعتبار سے غلط قرار دیا تھا۔
جے رام رمیش نے اپنی پوسٹ کے ساتھ اس کتاب کے سرورق اور اس خط کے چند صفحات کی تصاویر بھی شیئر کیں۔ ان تصاویر میں خط کے وہ حصے دکھائے گئے ہیں جن میں نانی پالکھی والا نے کیشوانند بھارتی مقدمہ اور آئین کے بنیادی ڈھانچے کے نظریہ کی اہمیت پر زور دیا ہے۔