امریکہ میں ٹیرف کا تنازع ایک اہم موڑ پر پہنچ گیا ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب نیویارک کی وفاقی عدالت نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کو تگڑا جھٹکا دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جن کمپنیوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے عائد کردہ درآمدی محصولات ادا کیے تھے، انہیں اب رقم واپس کی جائے گی۔ امریکی عدالت برائے بین الاقوامی تجارت کے جج رچرڈ ایٹن نے کہا کہ تمام درآمد کرنے والی کمپنیاں امریکی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا فائدہ پانے کی حقدار ہیں جس میں گزشتہ ماہ ٹرمپ کے کئی ٹیرف کو غیرآئینی بتایا گیا تھا۔
امریکی عدالت برائے بین الاقوامی تجارت کے جج رچرڈ ایٹن نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے تمام درآمد کنندگان اس فیصلے سے مستفید ہونے کے حقدار ہیں۔ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی جانب سے امریکی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دینے کے بعد آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے 1977 کے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) کے تحت عائد کردہ ٹیرف آئین کے خلاف ہیں۔
اپنے فیصلے میں جج ایٹن نے کہا کہ وہ اکیلے آئی ای ای پی اے ٹیرف کی واپسی کے لیے مقدمات کی سماعت کریں گے۔ اس سے اب یہ صاف ہوگیا ہے کہ کمپنیوں کو ٹیرف واپس کرنے کا عمل کیسے انجام دیا جائے گا جب کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس کا ذکر نہیں کیا۔ اس پر اٹارنی ریان مجوراس نے کہا کہ حکومت ممکنہ طور پر اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی یا رقم واپسی کے عمل کو روکنے کے لیے مہلت مانگے گی۔
واضح رہے کہ امریکی حکومت اب تک ان ٹیرف سے 130 بلین ڈالر حاصل کر چکی ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ حکومت کو مجموعی طور پر 175 بلین ڈالر تک کی واپسی کرنی پڑ سکتی ہے۔ ایسے میں یہ فیصلہ خاص طور پر ایٹموس فلٹریشن ناشول، ٹینیسی کی کمپنی کے معاملے میں آیا ہے جس نے ٹیرف کی واپسی کا دعویٰ کیا تھا۔ یہ کمپنی فلٹریشن اور فلٹریشن مصنوعات تیار کرتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ جب کوئی سامان امریکہ میں آتا ہے تو یوایس کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن اس کا آخری حساب کرتا ہے، جسے لیکویڈیشن کہتے ہیں۔ لیکویڈیشن کے بعد درآمد کنندگان کو 180 دن کا وقت ملتا ہے جس کے اندر وہ ٹیرف پر اعتراضات درج کراسکتے ہیں۔ اس کے بعد یہ حساب قانونی طور سے حتمی مانا جائے گا۔ جج نے حکم دیا کہ کسٹمز ان ٹیرف کو اکٹھا کرنا بند کرے جو سپریم کورٹ نے غیرقانونی قرار دیئے ہیں اور اگر کوئی سامان پہلے ہی لیکویڈیشن کے عمل سے گزر چکا ہے تو اس کا حساب بغیر ٹیرف پھر سے کیا جائے گا۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد نیویارک لا اسکول کے پروفیسر بیری ایپلٹن نے کہا کہ یہ درآمد کنندگان اور صارفین کے لیے بہت اچھا فیصلہ ہے۔ اس سے کسٹم بروکرز کی بھی مصروفیت بڑھے گی اورعدالت کے لیے عمل آسان ہوگا۔