لکھنؤ: 26 فروری (یو این آئی) بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی) سپریمو مایاوتی نے کانشی رام جینتی منانے کے منصوبے پر سماجوادی پارٹی(ایس پی) سربراہ کو نشانہ بناتے ہوئے سخت تنقید کی ہے، جس کے بعد اتر پردیش کا سیاسی پارہ گرم ہوگیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں مایاوتی نے الزام لگایا کہ سماجوادی پارٹی کا رویہ تاریخی طور پر دلتوں، دیگر پسماندہ طبقات اور بی ایس پی مخالف رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی نے بہوجن سماج سے تعلق رکھنے والے سنتوں، گروؤں اور عظیم شخصیات کی توہین کی ہے۔ کانشی رام کی جینتی کو ''پی ڈی اے ڈے'' کے طور پر منانے کے مبینہ منصوبے کو انہوں نے خالص سیاسی ڈرامہ قرار دیا اور کہا کہ اس کا مقصد انتخابی فائدے کے لیے محروم طبقات کو گمراہ کرنا ہے۔
واضح رہے کہ پی ڈی اے یعنی پچھڑا، دلت، اقلیتی کی اصطلاح اکھلیش یادو نے اعلیٰ ذاتوں کے غلبے کے خلاف سیاسی نعرے کے طور پر پیش کیا تھا۔
مایاوتی نے 1993 کے بی ایس پی۔ایس پی اتحاد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دلتوں اور کمزور طبقات پر مظالم روکنے میں ناکامی کے باعث یہ اتحاد ٹوٹ گیا تھا۔
انہوں نے یکم جون 1995 کو بی ایس پی کی حمایت واپس لینے اور دو جون 1995 کو لکھنؤ کے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس واقعے کا ذکر کیا، جس میں ان پر حملہ ہوا تھا۔ یہ واقعہ ریاست کی سیاسی تاریخ کا اہم باب سمجھا جاتا ہے۔
بی ایس پی سربراہ نے الزام لگایا کہ ایس پی حکومت نے اپنے دور میں کانشی رام کے نام سے منسوب اضلاع اور اداروں کے نام تبدیل کیے۔
انہوں نے کانشی رام نگر ضلع (موجودہ کاس گنج) اور بھدوہی کے سنت روی داس نگر کے نام کی تبدیلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ نام بی ایس پی حکومت نے بہوجن رہنماؤں کے اعزاز میں رکھے تھے۔
مایاوتی نے یہ بھی کہا کہ لکھنؤ میں کانشی رام کے نام سے قائم ایک یونیورسٹی اور سہارنپور کے ایک سرکاری اسپتال کا نام بھی ایس پی حکومت نے تبدیل کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ اقدامات بی ایس پی بانی کے تئیں حقیقی احترام کو ظاہر کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ ایس پی نے مسلم اور بہوجن مخالف رویہ اختیار کیا اور اس کے دور حکومت میں فرقہ وارانہ فسادات کے باعث جانی و مالی نقصان ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس پی کی سیاسی حکمت عملی سے بالواسطہ طور پر بی جے پی کو فائدہ پہنچا اور اسے ریاست میں اپنی طاقت مستحکم کرنے کا موقع ملا۔
اپنے بیان کے اختتام پر مایاوتی نے دلتوں، او بی سی، مسلمانوں اور دیگر محروم طبقات سے اپیل کی کہ وہ سماجوادی پارٹی کی مبینہ ذات پرمبنی اور فرقہ وارانہ سیاست سے ہوشیار رہیں۔