Jadid Khabar

مجوزہ یوجی سی قانون پھوٹ ڈالو اور راج کرو کی پالیسی کے تحت لایا گیا :سنجے سنگھ

Thumb

لکھنؤ 26 فروری (یواین آئی) یو جی سی سے متعلق مجوزہ بل پر عام آدمی پارٹی کے رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن سنجے سنگھ نے مرکزی حکومت کی سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت یہ بل سماج میں دلت، پسماندہ، آدیواسی اور سورن طبقات کے درمیان تفریق پیدا کرنے کے مقصد سے لا رہی ہے۔  

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کی نیت صاف ہوتی تو یونیورسٹیوں میں دو آزاد کمیٹیاں تشکیل دی جاتیں۔ ایک کمیٹی ذات پات کی بنیاد پرامتیاز کی شکایات کی جانچ کر کے سخت کارروائی کو یقینی بناتی، جب کہ دوسری کمیٹی باہمی تنازعات کو حل کرنے کا کام کرتی۔  

ان کا کہنا تھا کہ ایسے مضبوط اور شفاف انتظامات سے کسی بھی قسم کے سماجی ٹکراؤ کو روکا جا سکتا تھا۔ سنجے سنگھ نے دعویٰ کیا کہ مجوزہ نظام میں واضح جوابدہی اور آزاد نگرانی کے مؤثر طریقہ کار کا فقدان ہے۔  انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی "تقسیم کرو اور حکومت کرو" کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اسی حکمت عملی کے تحت یو جی سی بل پیش کیا گیا ہے۔ 

ان کے مطابق بل پیش کیے جانے کے بعد حکومت کی جانب سے اس معاملے پر واضح مکالمے کا نہ ہونا اس کی نیت پر سوال اٹھاتا ہے۔  سنجے سنگھ نے آئندہ انتخابات اور ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے بھی تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی موسم میں تمام سیاسی جماعتیں متحرک ہو جاتی ہیں، تاہم کس کو ٹکٹ ملے گا اور آخری وقت میں کیا تبدیلیاں ہوں گی، یہ فیصلہ عموماً آخری لمحے تک نہیں ہو پاتا۔  

انہوں نے کارکنان سے اپیل کی کہ کسی بھی ممکنہ اعلان پر حد سے زیادہ جوش و خروش دکھانے کے بجائے تنظیمی نظم و ضبط برقرار رکھیں۔  آخر میں انہوں نے کہا کہ عوام کو حکومت کی پالیسیوں اور اس کے حقیقی عزائم کو سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ جمہوری اقدار اور سماجی ہم آہنگی کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔