نئی دہلی، 26 فروری (یو این آئی) سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز عدلیہ میں بدعنوانی کے باب پر مشتمل نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) کی کلاس 8 کی سوشل سائنس کی نصابی کتاب کی دوبارہ طباعت اور ڈیجیٹل نشریات پر مکمل پابندی عائد کرنے کا حکم دیا۔ عدالت عظمی نے زیر غور کتاب کی کاپیاں فوری ضبط کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے دو ہفتوں میں تعمیلی رپورٹ طلب کری ہے۔
عدالت عظمی نے اپنے حکم میں واضح کیا کہ یہ این سی ای آر ٹی کے ڈائریکٹر اور ان تمام اسکولوں کے پرنسپل کی ذاتی ذمہ داری ہوگی جہاں کتاب پہنچی ہے۔ انہیں اپنے احاطے میں موجود کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط اور سیل کرنی چاہئیں۔ عدالت عظمیٰ نے یہ بھی ہدایت دی کہ زیر بحث کتاب کی بنیاد پر طلبہ کو کوئی درس یا تعلیم نہ دی جائے۔ تمام ریاستوں کے چیف سکریٹریوں کو اس حکم پر عمل درآمد کرنے اور دو ہفتے کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
عدالت عظمیٰ نے متنبہ کیا کہ الیکٹرانک ذرائع سے یا عنوانات کو تبدیل کرکے اس حکم کی خلاف ورزی کی کسی بھی کوشش کو توہین عدالت اور ہدایات کو براہ راست نظر اندازکرنا تصور کیا جائے گا۔
اس سے قبل بدھ کے روز چیف جسٹس نے کتاب کے مندرجات پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کسی کو عدلیہ کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے اسے عدلیہ کے خلاف گہری سازش قرار دیا۔ سینئر وکیل کپل سبل اور ڈاکٹر ابھیشیک منو سنگھوی نے بھی اس نصابی کتاب کے مندرجات پر عدالت کے سامنے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پوری عدلیہ کی شبیہ خراب ہو رہی ہے۔