ممبئی ، 26 فروری (یو این آئی) مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اپوزیشن کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک میں قوم پرست مسلمانوں کی حب الوطنی پر کوئی سوال نہیں، تاہم جو عناصر ہندوستان کے دشمنوں کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں، انہیں ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔
ایک عوامی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اُن رہنماؤں کو نشانہ بنایا جو ٹیپو سلطان اور چھترپتی شیواجی مہاراج کے درمیان تقابل کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں طویل عرصے تک تاریخ کو مسخ شدہ انداز میں پیش کیا جاتا رہا۔
فڑنویس نے دعویٰ کیا کہ ہمیں یہ بتایا گیا کہ ٹیپو سلطان ایک عظیم حکمراں تھے، لیکن ہزاروں ہندوؤں اور نائر برادری کے افراد کے قتل جیسے حقائق کو ہم سے چھپایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی راج کے خلاف ان کی لڑائی قوم کے لیے نہیں بلکہ اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے تھی۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکز میں حکومت آنے کے بعد اُس تاریخ کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی جسے وہ ''حقیقی تاریخ'' قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ کی نصابی کتب میں شیواجی مہاراج کا صرف مختصر ذکر کیا گیا جبکہ مغلوں پر تفصیلی ابواب شامل تھے۔
فڑنویس نے یہ بھی کہا کہ اگر ماضی میں ''درست تاریخ'' پڑھائی جاتی تو کوئی مسلمان اورنگزیب یا ٹیپو سلطان کو ہیرو نہ مانتا۔ انہوں نے اپوزیشن پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ بھارت کی پانچ ٹریلین ڈالر معیشت کے ہدف اور مہاراشٹر کی ترقیاتی حکمت عملی جیسے معاملات پر عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کو مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ انتشار پیدا کرنے کے بجائے سنجیدگی سے غور کریں اور تعمیری کردار ادا کریں، کیونکہ اسی سے مہاراشٹر کی ترقی اور بھارت کی معاشی پیش رفت میں ریاست کا کردار مضبوط ہوگا۔