نئی دہلی، 23 فروری (یو این آئی) مرکزی وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے پیر کے روز کہا کہ اس وقت سونے کی قیمتوں میں جاری تیزی بنیادی طور پر دنیا کے مرکزی بینکوں کی جانب سے سونا اور چاندی کی خرید میں اضافے کے سبب ہے۔
محترمہ سیتارمن نے کہا کہ ملک میں سونے کی سرمایہ کاری اور صارفین کی طلب کو دیکھتے ہوئے صورتحال تشویشناک نہیں لگتی، تاہم ہندوستانی ریزرو بینک (آر بی آئی) کی بازار پر نظر برقرار ہے۔ محترمہ سیتا رمن آر بی آئی کے سنٹرل بورڈ آف ڈائرکٹرز کی پوسٹ بجٹ میٹنگ میں شرکت کے بعد نامہ نگاروں سے خطاب کر رہی تھیں۔
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ 'آج کل زیادہ تر ممالک، خاص طور پر ان کے مرکزی بینک، سونا اور چاندی خرید کر ذخیرہ کررہے ہیں۔ جب آپ ہندوستانی صارفین کی منڈی کی بات کرتے ہیں تو یہ ایک رجحان کے طور پر نظر آتا ہے۔ ہر مرکزی بینک کے پاس کچھ نہ کچھ ذخیرہ ہوتا ہے، لیکن حالیہ دنوں میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ کئی دیگر ممالک کے مرکزی بینک بھی سونا خرید رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں اضافہ بنیادی طور پر مرکزی بینکوں کی جانب سے سونا خریدنے اور ذخیرہ کرنے کی وجہ سے ہے۔ محترمہ سیتارمن نے گھریلو استعمال کے بارے میں کہا کہ یہ ہر موسم اور ہر تہوار کے ساتھ جڑی ایک عام صورتحال ہے۔ لیکن سونے اور چاندی کی عالمی قیمتوں میں جو غیر معمولی اور عام اتار چڑھاؤ سے کہیں زیادہ اضافہ ہوا ہے، اس کا اثر ہر گھریلو خریداری پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیمتی دھاتوں کے معاملے میں ہماری انحصار تقریباً مکمل طور پر بیرونی ذرائع پر ہے۔ ہمارے پاس سونے کی تلاش اور اس کی کان کنی کے لیے خاطر خواہ گھریلو وسائل موجود نہیں ہیں۔ اس سمت میں اقدامات کیے جا رہے ہیں، لیکن وہ ہماری طلب پوری کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ ہندوستان میں سونا ہمیشہ سے خاندانوں کے لیے ایک پسندیدہ سرمایہ کاری رہا ہے۔ گھریلو طلب میں تہواروں کے موسم کے دوران موسمی اضافہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ یہ کسی تشویشناک سطح تک پہنچی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ ایک خاص حد سے آگے نہیں گیا ہے۔ تاہم ریزرو بینک آف انڈیا بھی اس کی نگرانی کر رہا ہے۔