بہار اسمبلی کے 42 اراکین کو پٹنہ ہائی کورٹ نے نوٹس بھیجا ہے، جس سے سیاسی ہلچل بڑھ گئی ہے۔ ان سبھی پر انتخاب کے دوران پیش کردہ حلف نامہ میں جانکاری چھپانے کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ جن 42 اراکین اسمبلی کو ہائی کورٹ نے نوٹس جاری کیا ہے، ان میں حزب اقتدار کے ساتھ ساتھ حزب اختلاف کے بھی لیڈران شامل ہیں۔
42 اراکین اسمبلی پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نامزدگی کے دوران جو حلف نامہ بھرا تھا، ان میں کئی باتیں چھپائی گئی تھیں۔ اتنا ہی نہیں، کچھ اراکین اسمبلی پر ووٹنگ عمل میں بے ضابطگی پیدا کرنے کا سنگین الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔ کچھ ماہ قبل انتخاب ہارنے والے امیدواروں نے اس بارے میں عرضی داخل کی تھی۔ آج عدالت میں اس عرضی پر سماعت ہوئی۔ بعد ازاں عدالت نے 42 اراکین اسمبلی کو نوٹس جاری کر تحریری جواب دینے کو کہا ہے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس فہرست میں اسمبلی اسپیکر پریم کمار کا بھی نام شامل ہے۔ ان کے علاوہ وزیر وجیندر یادو، سابق وزیر جیویش مشرا، جنتا دل یو رکن اسمبلی چیتن آنند، آر جے ڈی رکن اسمبلی امریندر پرساد کے نام بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ عدالت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ نامزدگی کے دوران داخل کیا گیا حلف نامہ جمہوری نظام کا اہم حصہ ہے۔ ووٹرس کو امیدواروں کے پس منظر، ملکیت اور دیگر تفصیلات کی درست جانکاری ملنی چاہیے۔ اگر یہ جانکاری غلط دی گئی ہے تو یہ سنگین بات ہے۔ سبھی اراکین اسمبلی طے وقت کے اندر اپنا جواب دیں۔