غزہ کے پھٹے پُرانے بوسیدہ پناہ گزین کیمپوں میں اسرائیلی بمباری کے شکار اور درد کے مارے فلسطینی خاندان رمضان المبارک کا شایان شان استقبال کر رہے ہیں۔ ماہ مقدس کے آغاز کے ساتھ ہی غزہ شہر کی سڑکوں پرچھوٹی چھوٹی لالٹینیں اوراسٹرنگ روشن ہوگئی ہیں، جو کبھی منہدم عمارتوں اور ملبے کے ڈھیروں سے بکھری ہوئی تھی۔ جنگ کی تباہ کاریوں میں اپنے بچپن سے محروم غزہ کے بچوں کے چہروں پرخوشی اور کچھ راحت بھی کیونکہ گزشتہ سال اکتوبر میں جنگ بندی کے بعد یہ ان کا پہلا رمضان ہے۔
خبروں کے مطابق غزہ میں گزشتہ 2 سال سے جاری اسرائیلی جارحیت اور بربریت، جنگ و جدل اور مایوس کن غیر یقینی حالات نے زندگی کو سخت اذیت ناک بنا رکھا ہے۔ س کے باوجود جیسے ہی ہلال صوم آسمان پر نمودار ہوا، مظلوم فلسطینیوں کی نگاہیں چمک اور چہرے خوشی سے کھلکھلا اُٹھے۔ غربت، گھرسے محرومی اور بھوک کے باوجود وہ آج بہت شاداں ہیں۔ وہ خیمے جو موسم کی سختیاں جھیلنے کی سکت نہیں رکھتے، ان میں بھی رمضان کی آمد پر سادہ لیکن خوشنما سجاوٹ کی جا رہی ہے۔ بچے اپنے ہاتھ سے پینٹنگز بناکر خیموں پر لگا رہے ہیں۔
تاریک ماحول کو خصوصی طور پر تیار کی گئی رمضان لالٹین سے روشن کیا جا رہا ہے۔ خیمہ گاہوں کی کچی پکی ایک ایک گلی رنگ و نور سے بھر گئی ہے۔ خیموں سے اللہ اکبر کی صدائیں گونج رہی ہیں۔ صاف نظرآ رہا ہے کہ اسرائیل غزہ کے شہریوں کے گھروں کو تو مسمار کرچکا ہے لیکن ایک ایک شخص کا جذبۂ ایمانی پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور اور مضبوط ہوچکا ہے۔ غزہ کے لوگوں کے لیے رمضان المبارک کے یہ دن امید، صبر اور اجتماعات کی اہمیت کا پیغام بھی رکھتے ہیں حالانکہ اب بھی جنگ، بحران اور قربانیوں کا دکھ پوری شدت کے ساتھ تازہ ہے۔
’اے ایف پی‘ کے مطابق بدھ کے روز رمضان المبارک کی پہلی صبح درجنوں نمازیوں نے عمری مسجد میں فجر کی نماز ادا کی۔ قالین پر ان کے پاؤں ننگے تھے لیکن انہوں نے سردی سے بچاؤ کے لیے بھاری جیکٹ پہن رکھی تھیں۔ اس موقع پر غزہ شہر کے رہنے والے ابو آدم بھی نماز پڑھنے آئے تھے۔ انہوں نے خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ قبضے، مساجد اور اسکولوں کی تباہی اور ہمارے گھروں کو زمیں دوز کئے جانے کے باوجود، ہم ان مشکل حالات سے گزرے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات بھی جب اس علاقے کو نشانہ بنایا گیا تب بھی ہم اللہ کی عبادت کے لیے مسجد جانے کے اپنے عزم پر ثابت قدم رہے۔ غزہ کے ایک سیکیورٹی ذریعے نے بدھ کے روز ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ مشرقی غزہ شہر پر توپوں سے حملے کئے گئے تھے۔ ذریعے نے یہ بھی بتایا کہ وسطی غزہ میں ایک پناہ گزین کیمپ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ بتادیں کہ اسرائیل بین الاقوامی صحافیوں کو غزہ کی پٹی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتا جس کی وجہ سے ہلاکتوں کی آزادانہ تصدیق کرنا ممکن نہیں ہوتا ہے۔