نئی دہلی، 17 فروری (یواین آئی) سپریم کورٹ نے منگل کے روز اس بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش ظاہر کی کہ وکلاء عدالت میں دائر کی جانے والی درخواستیں تیار کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کر رہے ہیں۔
عدالت کے مطابق اسے ایسے فیصلے اور حوالہ جات دیکھنے کو ملے ہیں جو یا تو موجود ہی نہیں تھے یا پھر غلط ثابت ہوئے۔
چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس بی وی ناگرَتنا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ عدالت کو ایسی عرضیاں موصول ہو رہی ہیں جو بظاہر بغیر مناسب جانچ کے اے آئی ٹولز کے ذریعے تیار کی گئی معلوم ہوتی ہیں۔
چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہاکہ "ہمیں تشویش کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ کچھ وکلاء نے ڈرافٹنگ کے لیے اے آئی کا استعمال شروع کر دیا ہے۔"