نئی دہلی، 13 فروری (یواین آئی) راجیہ سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھڑگے نے جمعہ کو کہا کہ صدر کے خطبۂ افتتاحیہ پر شکریہ کی تحریک کے دوران ان کی تقریر کا ایک بڑا حصہ "بلا کسی جواز کے" کارروائی سے حذف کر دیا گیا، جس میں انہوں نے پارلیمانی کام کاج پر تبصرے اور وزیراعظم کی چند پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔
وقفۂ صفر کے بعد کھڑگے نے یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سماجی انصاف سے لے کر پارلیمانی حقائق تک اپنی بات رکھی تھی۔ انہوں نے کہاکہ "راجیہ سبھا کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ شدہ تقریر کا جائزہ لینے پر میں نے پایا کہ میری تقریر کا بڑا حصہ بلا وجہ ہٹا دیا گیا ہے۔ یہ وہ حصے ہیں جن میں میں نے موجودہ حکومت کے دور میں پارلیمانی کام کاج پر حقائق کے ساتھ تبصرے کیے ہیں اور وزیراعظم کی چند پالیسیوں پر تنقید کی ہے، جو بطور قائدِ حزبِ اختلاف میرا فرض بھی ہے کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ وہ پالیسیوں عوام پر منفی اثر ڈال رہی ہیں۔"
انہوں نے کہا کہ پانچ دہائیوں سے زیادہ کے پارلیمانی تجربے میں وہ ہمیشہ زبان کی شائستگی کے پابند رہے ہیں اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ کون سی باتیں نکالی جا سکتی ہیں۔ کانگریس کے رکن نے کہا کہ راجیہ سبھا کے قواعد و ضوابط کا قاعدہ 261 صرف مخصوص اور محدود حالات میں نافذ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو تبصرے حذف کیے گئے ہیں وہ نہ تو غیر پارلیمانی ہیں اور نہ ہی توہین آمیز، بلکہ موضوع سے متعلق تھے۔
کھڑگے نے کہاکہ "میری تقریر کا اتنا بڑا حصہ کاٹنا اور ہٹانا جمہوریت کے خلاف ہے، اظہارِ رائے کی آزادی کے خلاف ہے اور آئین کے آرٹیکل 105 کی خلاف ورزی ہے۔" انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انصاف نہ ملا تو وہ "غیر ریکارڈ شدہ ورژن" عوام کے درمیان بانٹنے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی تقریر کا بڑا حصہ ہٹا کر وزیراعظم کو بچایا جا رہا ہے۔
صدرِ اجلاس سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ وہ حذف شدہ حصہ عوام کے درمیان بانٹ نہیں سکتے۔ انہوں نے کہاکہ "آپ سینئر رکن ہیں، آپ ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں؟ جو بھی حصہ کارروائی سے ہٹا دیا گیا ہے، وہ ہٹا دیا گیا ہے۔"
وزیرِ خزانہ نرملا سیتا رمن نے قائدِ حزبِ اختلاف پر صدرِ اجلاس کے فیصلے پر سوال اٹھانے پر تنقید کی۔ انہوں نے کہاکہ "قاعدہ 261 کہتا ہے کہ اگر صدرِ اجلاس کی رائے میں بحث کے دوران استعمال کیا گیا کوئی لفظ یا جملہ توہین آمیز، غیر شائستہ یا غیر پارلیمانی ہے تو صدرِ اجلاس اپنے اختیار سے اسے حذف کرنے کا حکم دے سکتے ہیں۔ آپ کا یہ کہنا کہ صدرِ اجلاس وزیراعظم کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ قائدِ حزبِ اختلاف کو زیب نہیں دیتا۔"
اس پر اپوزیشن ارکان نے قواعد کا مسئلہ اٹھانے کی کوشش کی لیکن صدرِ اجلاس نے اجازت نہیں دی اوروقفہ سوالات کی کارروائی شروع کر دی۔