نئی دہلی، 13 فروری (یواین آئی) وزیر زراعت شیو راج سنگھ چوہان نے جمعہ کو راجیہ سبھا میں یقین دلایا کہ تٖوَر، مسور اور اڑد کے کسان جتنا بھی پیداوار کریں گے، حکومت اس کی سو فیصد خرید کرے گی۔
وقفہ سوالات کے دوران ایک ضمنی سوال کے جواب میں انہوں نے ایوان کو بتایا کہ دالوں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اب بھی درآمد کرنا پڑتا ہے۔ دالوں میں خود کفالت کے لیے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کسان جتنا بھی تٖوَر، مسور اور ارد پیدا کریں گے، حکومت اس کی خرید کرے گی۔ انہوں نے کسانوں کو مشورہ دیا کہ وہ پہلے سے دال مشن پورٹل پر رجسٹریشن کرائیں تاکہ مکمل خرید یقینی ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ دالوں کا رقبہ کل کاشت کے رقبے کا 38 فیصد تھا جبکہ کل اناج کی پیداوار میں اس کا حصہ 28 فیصد تھا۔ کم پیداوار کی وجہ سے کسانوں نے دال کی کاشت چھوڑنی شروع کر دی تھی۔ یہ سمجھتے ہوئے کہ دال ملک کی بڑی ضرورت ہے، حکومت نے پیداوار بڑھانے کے لیے دال مشن شروع کیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مالی سال 2030-31 تک ملک دالوں کے معاملے میں خود کفیل ہو جائے گا۔
کم پیداوار کی وجوہات بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دالوں میں اچھے بیجوں کی کمی ہے۔ یہ ایسی فصل ہے جو زیادہ سردی، کم یا زیادہ بارش سے خراب ہو جاتی ہے۔ دال مشن کے تحت حکومت معیاری بیج تیار اور تقسیم کرے گی، کسانوں کو تربیت دی جائے گی، دالوں کی فصلوں کے لیے کلسٹر تیار کیے جائیں گے، ان کلسٹروں میں پروسیسنگ یونٹ لگائے جائیں گے اور خریداری کا شفاف نظام قائم کیا جائے گا۔
ایک اور ضمنی سوال کے جواب میں انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس کی حکومتوں نے کبھی کسانوں کے مسائل پر توجہ نہیں دی۔ مودی حکومت کے دور میں پیداوار سے لے کر ذخیرہ کرنے تک بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی گئی۔
چوہان نے ایک اور ضمنی سوال کے جواب میں کہا کہ جب بھی دہلی میں آلودگی بڑھتی ہے تو اس کا ذمہ دار پرالی جلانے کو ٹھہرایا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آلودگی میں پرالی جلانے کا حصہ کبھی پانچ فیصد سے زیادہ نہیں رہا۔ اس میں صنعتوں اور گاڑیوں کے دھوئیں کا زیادہ حصہ ہے۔