پنجاب کے شہر جالندھر میں عام آدمی پارٹی کے مقامی لیڈر لکی اوبیرائے کو جمعرات کی صبح گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ یہ واردات ماڈل ٹاؤن علاقے میں واقع ایک گوردوارے کے باہر اس وقت پیش آئی جب وہ ارداس کے بعد باہر نکل کر اپنی کار میں بیٹھنے والے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق دو نامعلوم افراد پہلے سے گھات لگائے موجود تھے اور جیسے ہی لکی اوبیرائے اپنی گاڑی کے قریب پہنچے، حملہ آوروں نے ان پر تیزی سے فائرنگ کر دی۔
گولیوں کی آواز سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ اپنی جان بچانے کے لیے ادھر اُدھر بھاگنے لگے۔ زخمی حالت میں انہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد انہیں مردہ قرار دے دیا۔ واقعے کے بعد حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار ہو کر موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
اطلاع ملتے ہی پولیس اور اعلیٰ افسران موقع پر پہنچ گئے اور پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش شروع کر دی گئی۔ گوردوارے اور اطراف میں نصب نگرانی کیمروں کی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے تاکہ حملہ آوروں کی شناخت کی جا سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کے محرکات جاننے کے لیے مختلف پہلوؤں پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں پرانی رنجش، جرائم پیشہ گروہوں کی سرگرمیاں اور دیگر ممکنہ اسباب شامل ہیں۔
دوسری جانب پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف پرتاپ سنگھ باجوا نے اس واقعے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ریاست کی قانون و انتظام کی صورت حال پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ دن دہاڑے گوردوارے کے باہر ایک سیاسی رہنما کا قتل انتہائی تشویش ناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکمران جماعت کے رہنما ہی محفوظ نہیں تو عام شہریوں کے تحفظ کی کیا ضمانت ہے۔
انہوں نے ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پنجاب اس وقت خوف اور جرائم کی لپیٹ میں ہے اور حکومت کو اس معاملے پر واضح جواب دینا چاہیے۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملزمان کو جلد گرفتار کرنے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور تفتیش تیزی سے جاری ہے۔