نئی دہلی، 6 فروری (یو این آئی) کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر براہِ راست حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اس عہدے پر فائز شخص اگر نازیبا الفاظ اور جھوٹ بولنے لگے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ کسی مایوسی کا شکار ہے، جس کے باعث اس کا حوصلہ ٹوٹ چکا ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کے روز ایک ویڈیو پوسٹ میں کہا کہ وزیر اعظم نے راجیہ سبھا میں صدر کے خطبۂ پرشکریہ کی تحریک پر جمعرات کے روز 97 منٹ کی تقریر کی، جس میں وہ مسلسل جھوٹ ہی بولتے رہے۔ جب ہم نے خطبے پر اپنی باتیں رکھیں تو وزیر اعظم نے ان کا بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ صرف 100 سال، 75 سال اور 50 سال کی باتیں ہی کرتے رہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ مسٹر مودی کے پاس ہمارے پوچھے گئے سوالوں کا جواب دینے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔
کانگریس کے صدر نے کہا کہ مسٹر مودی کانگریس پر سکھوں کی توہین کا الزام لگا رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے خود سکھوں کی توہین کی ہے۔ مسٹر مودی نے خود سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ جی کی توہین کی تھی۔ درحقیقت سکھوں کی توہین تو وزیر اعظم نے ہی کی ہے۔ مسٹر مودی نے کہا کہ ہم نے سکھوں کی توہین کی، یعنی ایوان کے باہر دو افراد کی گفتگو کو سکھوں کی توہین قرار دے دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس سکھوں کا بہت احترام کرتی ہے، کانگریس حکومت میں ڈاکٹر منموہن سنگھ وزیر خزانہ اور وزیر اعظم بنے تھے، لیکن مسٹر مودی نہ سکھوں کا احترام کرتے ہیں، نہ دلتوں کا اور نہ ہی آدیواسیوں کا۔
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ یہ باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ مسٹر مودی کا حوصلہ ٹوٹ چکا ہے اور ان کی چمک ماند پڑ گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے گالیاں دی جاتی ہیں، دو کلو گالیاں، ایک کنٹل گالیاں، تو کیا گالیوں کو تولا جاتا ہے؟ انہوں نے مجھے تو بہت گالیاں دی ہیں اور اپنے بارے میں کہتے ہیں کہ مجھے دو دو کلو، ایک ایک کنٹل گالیاں دی جاتی ہیں، تو یہ کیا ہے؟ وزیر اعظم کے عہدے پر بیٹھا شخص اگر جمہوریت اور ملک کے لیے نازیبا الفاظ کہے تو یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔
انہوں نے لوک سبھا میں سابق فوجی سربراہ نروَنے کی کتاب کے اقتباسات پڑھنے کی اجازت نہ دینے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ کتاب ابھی شائع ہی نہیں ہوئی ہے۔ جب نروَنے جی کی کتاب ہمیں مل گئی تو اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو کیسے نہیں ملی؟ وہ پارلیمنٹ میں کہہ رہے ہیں کہ کتاب ابھی شائع ہی نہیں ہوئی۔ امت شاہ ہوں یا راج ناتھ سنگھ، سب نے بار بار کتاب نہ ہونے کی بات کی، لیکن حقیقت میں کتاب موجود ہے۔ جب راہل گاندھی نے نروَنے جی کی کتاب کے بارے میں پارلیمنٹ میں بات کی تو جانے کیوں پورے حکمراں فریق کو برا لگا۔ میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ پہلے سچ سنیں، پھر جواب دیں۔ سچائی یہی ہے کہ مسٹر مودی کے پاس ہمارے سوالوں کا جواب دینے کی طاقت ہی نہیں ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ مسٹر مودی کے ذہن میں صرف ایک ہی بات رہتی ہے کہ دوسروں کو کیسے نیچا دکھایا جائے۔ جدید ہندوستان کی بنیاد کے لیے پنڈت جواہر لال نہرو نے سرکاری شعبے قائم کیے، لیکن مسٹر مودی انہیں دیوالیہ نکالنے کی فیکٹری کہتے ہیں۔ جب ملک میں ایک گھڑی تک نہیں بنتی تھی تب سرکاری شعبے کی کمپنیاں ہی کام آئی تھیں۔ لیکن سرکاری شعبے کی کمپنیوں کو بچانے کے بجائے مسٹر مودی نے انہیں ختم کرنے کا کام کیا ہے۔
یو این آئی۔ ایس اے۔ایف اے