Jadid Khabar

عمر عبداللہ نے ایک لاکھ 27 ہزار کروڑ کا بجٹ پیش کیا، جامع ترقی، مالی نظم و ضبط اور عوامی بہبود کو ترجیح

Thumb

موں،6 فروری (یو این آئی) جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کے روز مالی سال 2026-27 کے لئے ایک لاکھ 27 ہزار کروڑ روپے کا بجٹ پیش کیا، جسے انہوں نے جامع، دیرپا اور عوامی مرکزیت پر مبنی ترقی کا خاکہ قرار دیا۔ بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ صرف اعداد کا مجموعہ نہیں بلکہ آنے والے برسوں میں جموں و کشمیر کی مالی، معاشی اور سماجی سمت کا تعین کرنے والا ایک مؤثر فریم ورک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت جدید، سرمایہ کاری دوست اور شفاف طرز حکمرانی کے ذریعے ریاست کو ایک ترقی یافتہ، مضبوط اور معاشی طور پر مستحکم خطے میں تبدیل کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ 
بجٹ پیش کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے مجموعی آمدنی اور مجموعی اخراجات دونوں کا تخمینہ ایک لاکھ 27 ہزار 767 کروڑ روپے بتایا، جس میں 14 ہزار کروڑ روپے کے طریقۂ محاصل ایڈوانس اور اوور ڈرافٹ شامل ہیں۔ خالص بجٹ تخمینہ ایک لاکھ 13 ہزار 767 کروڑ روپے رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال میں 80 ہزار 640 کروڑ روپے ریونیو اخراجات کے لئے اور 33 ہزار 127 کروڑ روپے سرمایہ جاتی اخراجات کے لئے مختص کیے گئے ہیں۔ بجٹ کے مطابق مجموعی ریونیو وصولی 90 ہزار 18 کروڑ روپے متوقع ہے، جب کہ 23 ہزار 749 کروڑ روپے کیپٹل ریسیپٹس ہوں گی۔ 
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے اپنے محصولات، جن میں ٹیکس اور نان ٹیکس دونوں شامل ہیں، 31 ہزار 800 کروڑ روپے اندازے میں رکھے گئے ہیں۔ مرکز کی جانب سے خصوصی امداد اور دوسری مالی معاونت ملا کر 42 ہزار 752 کروڑ روپے کی گرانٹ ملنے کا امکان ہے، جبکہ مرکزی اسکیموں کے تحت 13 ہزار 400 کروڑ روپے ملیں گے۔ انہوں نے بجٹ میں مالی نظم و ضبط کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو 2026-27 میں 6.6 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ مالی خسارے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ 2025-26 میں یہ 2.98 فیصد رہا جو 2024-25 کے 5.5 فیصد کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے، تاہم 2026-27 میں یہ 3.69 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔ 
عمر عبداللہ نے اپنی تقریر میں یہ بھی بتایا کہ سال 2025-26 کے لئے ریاستی جی ڈی پی دو لاکھ 88 ہزار 422 کروڑ روپے رہی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 9.5 فیصد زیادہ ہے۔ آئندہ سال کے لئے تین لاکھ 15 ہزار 822 کروڑ روپے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے برس مختلف چیلنجوں، جیسے جیو پولیٹیکل صورتحال، پہلگام میں دہشت گردانہ حملہ اور جموں کے کچھ علاقوں میں سیلاب نے معاشی سرگرمیوں کو متاثر کیا، جس کا اثر سیاحت، باغبانی، ہنر و حرفت اور زراعت سمیت ہر شعبے پر پڑا۔ 
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ حکومت مالیاتی دباؤ کم کرنے کے لئے پاور سیکٹر میں اصلاحات کر رہی ہے۔ صارفین کی تعداد میں اضافہ، بجلی کی ترسیل میں اصلاحات اور نقصانات میں کمی کے اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت مسلسل تیسرے سال کفایت شعاری اقدامات نافذ کر رہی ہے تاکہ غیر ضروری اخراجات روکے جا سکیں۔ انہوں نے مرکز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خصوصی معاونت اسکیم کے تحت انفراسٹرکچر، ہائیڈرو پاور پروجیکٹس اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تعمیرِ نو کے کاموں کے لئے خاطر خواہ فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں۔ 
وزیر اعلیٰ نے اپنی تقریر میں متعدد فلاحی اقدامات کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ معاشی طور پر کمزور طبقے کے طلبہ کے لئے نویں جماعت سے لے کر کالج تک مکمل فیس معافی دی جائے گی۔ کمزور طبقے کے گھروں کو ایک سال میں چھ ایل پی جی سلنڈر مفت فراہم کئے جائیں گے۔ یتیم بچوں کے لئے ماہانہ مالی مدد، قبائلی طلبہ کے لئے وظائف اور معذور افراد کو سرکاری ٹرانسپورٹ میں مفت سفر کی سہولت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے میں بھی بڑے اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں سیب، زعفران، آم اور لیچی کی فصلوں کے لئے فصل بیمہ، اسٹوریج کی توسیع، اسپرنکلر اور مائیکرو ایریگیشن کا فروغ اور طبی پودوں کی کاشت شامل ہیں۔ 
تعلیم کے میدان میں حکومت نے 'جے کے ای پاتھ شالا' کے تحت پہلی سے بارہویں جماعت تک ڈی ٹی ایچ چینل شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ آنگن واڑی مراکز کی جدید کاری، سرکاری اسکولوں میں انڈور اسپورٹس سہولیات اور صنعتوں میں مقامی نوجوانوں کی ترجیحی بھرتی بھی بجٹ کا حصہ ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بجٹ عوامی مشاورت کے بعد تیار کیا گیا ہے جس میں منتخب نمائندوں، صنعتی رہنماؤں اور تمام اسٹیک ہولڈروں کی تجاویز شامل کی گئی ہیں۔ 
اپنی تقریر کے اختتام پر عمر عبداللہ نے ایوان کے تمام اراکین سے اپیل کی کہ وہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر جموں و کشمیر کی ترقی کے لئے متحد ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت رکاوٹوں کو مواقع میں تبدیل کرنے اور ریاست کو ترقی کے ایک نئے دور میں داخل کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ عوام کے لئے امید، استحکام اور ترقی کا نیا دروازہ کھولتا ہے، جو مستقبل کے لئے مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔