امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی سفارت خانے نے جمعہ 6 فروری کو ایران میں مقیم اپنے شہریوں کے لیے ہنگامی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت دی ہے۔ سفارت خانے نے واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر امریکی شہری سڑک، فضائی یا بحری راستے سے کسی بھی ممکنہ ذریعے کا استعمال کرتے ہوئے جلد از جلد ایران سے نکل جائیں۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ایران میں سکیورٹی انتظامات سخت کیے جا رہے ہیں اور کئی مقامات پر سڑکیں بند کی جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی ایئرلائنز ایران آنے اور جانے والی پروازوں کو محدود کر رہی ہیں جبکہ متعدد پروازیں منسوخ بھی کی جا چکی ہیں۔ ایسے میں امریکی شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کسی بھی تاخیر کے بغیر واپسی کے انتظامات مکمل کریں۔
سفارت خانے نے ایک غیر معمولی تنبیہ بھی جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی شہری ہنگامی صورت حال میں امریکی حکومت کی براہ راست مدد کی توقع نہ رکھیں اور اپنی ذمہ داری پر فوری انخلا کو یقینی بنائیں۔ اس بیان نے حالات کی سنگینی کو مزید نمایاں کر دیا ہے اور خطے میں ممکنہ تصادم کی قیاس آرائیوں کو تقویت دی ہے۔
ادھر، اہم پیشرفت یہ ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جمعہ کو جوہری پروگرام کے معاملے پر مذاکرات متوقع ہیں۔ یہ بات چیت عمان میں ہوگی۔ وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سفارتی ذرائع سے مسئلے کے حل کی کوشش کر رہی ہے اور مذاکرات کا بنیادی مقصد ایران کے جوہری پروگرام پر مکمل پابندی عائد کرنا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ جمعرات کی شب عمان پہنچ چکے ہیں، جبکہ امریکہ کی جانب سے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف مذاکرات میں شرکت کریں گے۔ پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق اسٹیو وٹکوف کے ساتھ جیرڈ کشنر بھی عمان میں بات چیت کے عمل کا حصہ ہوں گے۔ خطے کی بدلتی صورت حال کے درمیان یہ مذاکرات نہایت اہم سمجھے جا رہے ہیں اور عالمی برادری کی نظریں ان پر مرکوز ہیں۔