Jadid Khabar

امریکی زرعی مصنوعات کے لیے ہندوستانی منڈی کھولنا کسانوں کے ساتھ دھوکہ: اکھلیش

Thumb

لکھنؤ، 03 فروری (یواین آئی) سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اکھلیش یادو نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مرکزی حکومت پر کسانوں کے مفادات سے کھلواڑ کرنے کا سنگین الزام لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی منڈی کو امریکی زرعی مصنوعات اور غذائی اجناس کے لیے کھولنا ملک کی تقریباً 70 فیصد آبادی، جو کھیتی پر منحصر ہے، کے ساتھ براہِ راست دھوکہ ہے۔ 
منگل کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر پوسٹ کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہاکہ "آتم نربھرتا اور دیسی مصنوعات کی بات کرنے والی بی جے پی عوام کو بتائے کہ ملک کی معیشت سے سمجھوتہ کر کے انہوں نے کتنا 'کمیشن' لیا ہے۔ اس فیصلے سے صرف کسان ہی نہیں بلکہ نچلا متوسط طبقہ اور متوسط طبقہ بھی بری طرح متاثر ہوگا، کیونکہ اس سے غذائی اجناس اور زرعی مصنوعات میں منافع خوری بڑھے گی اور نئے دلال پیدا ہوں گے، جس سے روزمرہ کی چیزیں مزید مہنگی ہوں گی۔" 
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ غیر ملکی کمپنیوں کے داخلے سے آہستہ آہستہ کسانوں کی آمدنی کم ہوگی اور وہ مجبور ہو کر اپنی زمین بڑے سرمایہ داروں اور کارپوریٹ گھرانوں کو بیچنے پر مجبور ہوں گے۔اکھلیش یادو نے کہا کہ زمینوں پر قبضہ کرنا ہی بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کا آخری مقصد ہے۔ 
اکھلیش یادو نے مجوزہ "سیڈ بل" کو ہندوستانی کھیتی کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اسی کسان مخالف سوچ کی پیداوار ہے جس نے زمین کے حصول جیسے قوانین لائے اور کھاد کے لیے کسانوں کو لائن میں لگا کر ذلیل کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پہلے بیج کمپنیوں سے، پھر کیڑے مار ادویات کی کمپنیوں سے، سائلوز کی تعمیر، فصل بیمہ، کم از کم قیمت طے کرنے اور فصل کی خرید و فروخت تک ہر سطح پر کمیشن خوری کی جائے گی، جس سے ہندوستانی حالات میں کھیتی مکمل طور پر تباہ ہو سکتی ہے۔ 
انہوں نے کہا کہ پہلے ہی ایم آر پی اور آوارہ مویشیوں سے پریشان کسان اب مزید زیادتیاں برداشت نہیں کرے گا۔ یادو نے کسانوں سے منظم احتجاج کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی ہر سال کسی نہ کسی شکل میں کسانوں پر وار کرتی رہی ہے۔