Jadid Khabar

سپریم کورٹ نے شادی ڈاٹ کام سے منسلک فوجداری معاملہ ہائی کورٹ کو واپس بھیج دیا

Thumb

نئی دہلی، 3 فروری (یواین آئی) سپریم کورٹ نے منگل کے روز شادی ڈاٹ کام کے بانی اور منیجنگ ڈائریکٹر انوپم مِتّل کی اس عرضی پر سماعت کی، جس میں ازدواجی پلیٹ فارم کے ایک صارف نے تصدیق شدہ اسناد کے بغیر پروفائل بنا کر ایک عورت کو دھوکہ دیا۔ متل نے اس معاملے میں فوجداری کارروائی کو منسوخ کرنے کی درخواست کی تھی۔
جسٹس پرشانت کمار مشرا اور جسٹس این وی انجاریہ پر مشتمل بنچ نے اس بات کا نوٹس لیا کہ مِتّل کے خلاف کارروائی پہلے ہی معطل کی گئی تھی اور معاملہ حتمی غور کے لیے عدالت کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔
انوپم مِتّل کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل آتمارام ناڈکرنی نے دلیل دی کہ شادی ڈاٹ کام محض ایک میچ میکنگ پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے، جو ممکنہ رشتوں کے درمیان ابتدائی رابطہ قائم کرنے میں سہولت فراہم کرتا ہے، اس کے بعد پلیٹ فارم کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ مِتّل کو غلط طور پر اس معاملے میں ملزم بنایا گیا ہے، جبکہ کمپنی نے تفتیشی ایجنسی کے ساتھ مکمل تعاون کیا ہے۔ سینئر وکیل نے یہ بھی بتایا کہ اس معاملے میں  ایک ملازم کو گرفتار کیا گیا تھا اور بعد اسے  ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔ اس  پورے معاملے میں مِتّل کا کوئی براہِ راست کردار نہیں تھا۔
ناڈکرنی نے یہ دلیل بھی دی کہ مبینہ جرم دھوکہ دہی کا ہے اور پلیٹ فارم پر ابتدائی رابطے کے بعد شکایت کنندہ اور ملزم کے درمیان واٹس ایپ کے ذریعے آزادانہ طور پر بات چیت ہوئی۔ انہوں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 79 کی خلاف ورزی کے الزامات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی نے اپنی قانونی ذمہ داریوں کی مکمل تعمیل کی ہے۔ تاہم بنچ نے اس نکتے پر غور کیا کہ استغاثہ کا معاملہ یہ تھا کہ اس پلیٹ فارم نے دھوکہ دہی میں مدد کی تھی۔ بنچ نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ راحت کے لیے سپریم  کورٹ سے کیوں رجوع کیا گیا، جب ہائی کورٹ میں پہلے سے ہی کارروائی منسوخ کرنے کی درخواست زیرِ التوا تھی۔
سپریم کورٹ نے اس بات کا بھی نوٹس لیا کہ ہائی کورٹ کے حکم میں منسوخی کی درخواست کے میرٹس پر کوئی واضح ہدایت نہیں جھلکتی، اس میں صرف محدود دلائل کو ہی درج کیا گیا ہے۔ اس کے پیش نظر بنچ نے ہدایت دی کہ اس معاملے پر ہائی کورٹ کو دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔
چنانچہ سپریم کورٹ نے اپنا سابقہ حکم منسوخ کرتے ہوئے معاملہ نئے سرے سے میرٹس کی بنیاد پر فیصلے کے لیے ہائی کورٹ کو واپس بھیج دیا۔ فوجداری کارروائی کو ان کی اصل فائل میں بحال کر دیا گیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے یہ بھی واضح کردیا کہ اس نے الزامات کے میرٹس پر کوئی رائے  نہیں دی ہے۔
دریں اثنا، بنچ نے مِتّل کو عبوری تحفظ فراہم کرتے ہوئے ہدایت دی کہ ان کے خلاف  آٹھ ہفتوں تک  کوئی  جبری کارروائی نہیں کی جائے گی۔ اس دوران وہ ہائی کورٹ سے مناسب عبوری راحت طلب کر سکتے ہیں۔