مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی طیارہ حادثہ میں ہوئی موت نے سیاست میں ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ کئی سرکردہ لیڈران نے ان کی موت پر اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے واقعہ کی اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ خاص طور سے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اجیت پوار کے انتقال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کچھ ایسے خدشات ظاہر کیے ہیں جس نے ایک نیا تنازعہ پیدا کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’اجیت پوار کی موت کی ٹھیک سے جانچ ہونی چاہیے، جس کی نگرانی سپریم کورٹ کرے۔‘‘ انھوں نے اشارہ دیا کہ اجیت پوار برسراقتدار اتحاد (مہایوتی) سے دوری بنا رہے تھے۔ ممتا کا کہنا ہے کہ ’’وہ برسراقتدار پارٹی کے ساتھ تھے، لیکن پچھلے دنوں کسی کا بیان سامنے آیا تھا کہ وہ بی جے پی چھوڑ دیں گے۔ ایسے میں اچانک یہ حادثہ شبہات پیدا کرتا ہے۔‘‘
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی اجیت پوار کی موت پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک قدآور لیڈر کا اس طرح جانا ملک کے لیے خسارہ ہے۔ انھوں نے واقعہ کی جانچ شفاف طریقے سے کرائے جانے کا مطالبہ کیا تاکہ طیارہ حادثہ کے تکنیکی یا دیگر وجوہات کا پتہ چل سکے۔ سماجوادی پارٹی چیف اور سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے بھی کچھ ایسی ہی مانگ سامنے رکھی۔ انھوں نے کہا کہ ’’اگر ممتا بنرجی جانچ کی بات کر رہی ہیں تو یہ واجب مطالبہ ہے۔ اجیت پوار بہت بڑے عہدے پر تھے، وہ نائب وزیر اعلیٰ تھے۔ حادثہ کیسے پیش آیا، اس کی جانچ ضروری ہے۔ پہلے بھی ہمارے کئی وی آئی پی لوگوں کی موت اس طرح ہوئی ہے۔‘‘
شیوسینا (یو بی ٹی) رکن پارلیمنٹ اروند ساونت نے طیارہ حادثہ پر اپنی فکر ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب میں نے حادثہ کی ویڈیوز دیکھیں تو اس کے بعد مجھے معاملہ بہت سنگین نظر آیا۔ میں اتنا ضرور کہوں گا کہ معاملہ کی جانچ سنجیدگی کے ساتھ کی جانی چاہیے۔‘‘ شیوسینا (یو بی ٹی) لیڈر انل دیسائی نے بھی اس معاملہ میں اپنا رد عمل ظاہر کیا، لیکن انھوں نے ممتا بنرجی کے بیان کو غم کے اس وقت میں نامناسب تصور کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’حادثہ کی تکنیکی جانچ ہونی چاہیے کہ اس میں کیا دقت ہوئی۔ لیکن ممتا بنرجی جو کچھ کہہ رہی ہیں، وہ ہمیں سمجھ میں نہیں آ رہا۔ ان کے اپنے تجربے ہیں، لیکن ایسے ماحول میں جب افسوس کا ماحول ہے تو کچھ بھی ایسا کہنا ٹھیک نہیں۔‘‘
حادثہ کی تحقیقات کا مطالبہ بہار کے سابق وزیر اعلیٰ اور آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو نے بھی کیا ہے۔ انھوں نے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی موت پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایشور ان کی روح کو سکون عطا کرے اور اہل خانہ و حامیوں کو غم برداشت کرنے کی طاقت دے۔ اس حادثہ کی اعلیٰ سطحی جانچ ہونی چاہیے۔‘‘ مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے بھی کچھ اسی طرح کی رائے ظاہر کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’اس حادثہ میں نائب وزیر اعلیٰ کی موت ہوئی ہے، واقعہ کی جانچ ہونی چاہیے۔ آج میں نے اپنے بڑے بھائی سے محروم ہو گیا ہوں۔‘‘
اس درمیان بارامتی طیارہ حادثہ کی تحقیقات شروع بھی ہو گئی ہے۔ فورنسک لیب کی ٹیم بارامتی ایئرپورٹ پہنچ گئی ہے۔ وہ یہاں سے جائے حادثہ پہنچے گی اور کچھ نمونے اکٹھا کرے گی۔ یہ بھی خبریں سامنے آئی ہیں کہ اس واقعہ کی ’ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو‘ (اے آے آئی بی) جانچ کرے گی۔ بیورو کی ٹیم جلد ہی جائے واقعہ کا دورہ کرے گی۔ جانچ کے دوران حادثہ کے اسباب پتہ کیے جائیں گے۔ مرکزی وزیر برائے شہری ہوابازی رام موہن نائیڈو کا بیان بھی سامنے آیا ہے، جس میں انھوں نے مطلع کیا ہے کہ طیارہ حادثہ کی جانچ شروع کر دی گئی ہے۔ انھوں نے یہ بھی جانکاری دی کہ طیارہ کو لینڈ کرنے کی کوشش کرتے وقت مسئلہ پیش آیا تھا۔
طیارہ حادثہ کے بعد کئی عینی شاہدین کے بیانات بھی سامنے آئے ہیں، جو جھنجھوڑ دینے والے ہیں۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ’’طیارہ میں دھماکہ کی وجہ سے 2 لاشیں ہوا میں اڑ گئیں۔ ہم نے اجیت پوار کو چشمہ اور گھڑی کی مدد سے پہچانا اور انھیں باہر نکالا۔‘‘ ایک چشم دید نے کہا کہ ’’میں نے یہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ یہ سچ میں بہت افسوسناک رہا۔ جب طیارہ نیچے آ رہا تھا تو ایسا لگا کہ یہ حادثہ کا شکار ہو جائے گا، اور ایسا ہی ہوا۔ کریش لینڈنگ کے بعد طیارہ میں بڑا دھماکہ ہوا۔ ہم طیارہ کی طرف بھاگے اور دیکھا کہ اس میں آگ لگی ہوئی تھی۔‘‘ اس نے مزید بتایا کہ ’’طیارہ میں حادثہ کے بعد 5-4 دھماکے ہوئے۔ بچاؤ ٹیم جائے وقوع پر پہنچی اور لوگوں کو طیارہ سے باہر نکالنے کی کوشش شروع ہو گئی۔ لیکن یہ بہت بڑی آگ تھی، اس لیے ہم لوگ مدد نہیں کر پائے۔‘‘