لکھنؤ، 28 جنوری (یواین آئی) بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی) سپریمو مایاوتی نے بدھ سے شروع ہوئے پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک کے سلگتے ہوئے مسائل کے فوری حل اور خود کفیل ہندوستان کی سمت میں ٹھوس اقدامات کرے۔
مایاوتی نے کہا کہ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے ساتھ شروع ہوا بجٹ اجلاس ملک میں نئی امید پیدا کرنے والا ہونا چاہیے، تاہم موجودہ حالات میں یہ خطاب عوام کے لیے نسبتاً کم مفید محسوس ہو رہا ہے۔
بدھ کوسوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر عدم استحکام کی فضا ہے، خاص طور پر امریکہ کے "امریکہ فرسٹ" مہم کے باعث پوری دنیا متاثر ہو رہی ہے، جس کا اثر ہندوستان پر پڑنا فطری ہے۔
ایسے وقت میں حکومت کی جانب سے نجی شعبے پر حد سے زیادہ انحصار کو لے کر عوام میں خدشات اور تشویش پائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اپنے کردار پر زیادہ اعتماد ظاہر کرنے کی ضرورت ہے۔
بی ایس پی سربراہ نے کہا کہ جس شدت کے ساتھ حکومت پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سیاسی مخالفت کا جواب دیتی ہے، اسی سنجیدگی کے ساتھ قومی مفاد، خود انحصاری، خارجہ پالیسی اور عوامی فلاح و بہبود کے امور پر بھی عملی اقدامات ہونے چاہئیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بجٹ اجلاس میں اس سمت میں واضح پیش رفت نظر آئے گی۔
مایاوتی نے مزید کہا کہ تقریباً 20 برس بعد یوروپی یونین کے ساتھ ہونے والا مجوزہ تجارتی معاہدہ صرف بڑی کمپنیوں اور صنعت کاروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اس کے فوائد عام عوام کی فلاح و بہبود تک پہنچیں، یہ یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔