یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے نئےضوابط نے ملک بھر میں ہنگامہ پرا کردیا ہے۔ مختلف ریاستوں میں اپوزیشن کے مظاہروں کے درمیان اب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو اپنے بھی گھیرنے لگے ہیں۔ تازہ معاملے میں بار کونسل آف انڈیا کے چیئرمین اور راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ منن کمار مشرا نے ان ضابطوں کی ضرورت پر سوال کھڑے کئے ہیں۔
یو جی سی کے نئے ضوابط پر بی جے پی کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ اور بار کونسل آف انڈیا کے چیئرمین ایڈوکیٹ منن کمار مشرا نے ’آئی اے این ایس‘ کو دیئے بیان میں کہا کہ تعلیمی اداروں کو تنازعات میں گھسیٹنا درست نہیں ہے۔ اس وقت ایک تنازعہ کھڑا کردیا گیا ہے جس کی بلکل ضرورت نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ ریگنگ کے خلاف سخت قوانین موجود ہیں لیکن مجھے جو شبہ ہے اور جو لوگ کھل کر نہیں کہہ رہے، وہ یہ ہے کہ ان ضوابط کے بعد تعلیمی ادارے تنازعات کا اڈہ بن جائیں گے۔ طلباء خواہ وہ کسی بھی ذات سے تعلق رکھتے ہوں، وہ وہاں تعلیم حاصل کرنے آئے ہیں اور انہیں کسی بھی چیز کی شکایت کرنے کی آزادی دی گئی ہے، یہاں تک کہ معمولی لڑائی بھی ہو تو شکایت کرو اور کسی کی زندگی خراب مت کرو۔ اس لیے اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ مجھے لگتا ہے کہ یوجی سی کو اس پر نظر ثانی کرنا چاہئے، حکومت کو بھی اس بارے میں سوچنا چاہئے۔
دریں اثنا علی گڑھ، سنبھل، کشی نگر اور اتر پردیش کے دیگر اضلاع میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے نئے ضوابط کے خلاف مظاہرے پھوٹ پڑے جس میں طلبہ گروپوں اور تنظیموں نے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا الزام لگایا۔ علی گڑھ میں طلبہ مظاہرین نے ضلع کلکٹریٹ میں ہاتھرس کے بی جے پی ایم پی انوپ پردھان کے قافلے کو روک دیا اور یو جی سی کے نئے ضوابط کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
اس کے علاوہ دہلی کے مختلف کالجوں کے طلباء کے ایک گروپ نے منگل کو یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے ہیڈکوارٹر کے باہر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن کے ذریعہ جاری کردہ نئے ضوابط سے کیمپس میں افراتفری پھیل سکتی ہے۔ بڑی تعداد میں بیریکیڈ اور بھاری بارش کے درمیان کم سے کم 100 طلباء نے احتجاج میں حصہ لیا۔