Jadid Khabar

مہاراشٹر کی بیٹی لبنیٰ قاضی چودھری کا امریکی عدلیہ میں تاریخی قدم

Thumb

 

ممبئی: مہاراشٹر کے ضلع رائےگڑھ سے تعلق رکھنے والی قانون داں لبنیٰ قاضی نے امریکہ کی ریاست نیوجرسی میں ایڈمنسٹریٹیو لاء جج کے عہدے کا حلف اٹھا کر ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ اس تقرری کے ساتھ ہی وہ نیوجرسی میں اس منصب پر فائز ہونے والی پہلی مسلم خاتون جج بن گئی ہیں، جسے عدلیہ میں اقلیتی نمائندگی کے اعتبار سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
حلف برداری کی یہ تقریب حال ہی میں منعقد ہوئی، جہاں نیوجرسی سپریم کورٹ کی ایسوسی ایٹ جسٹس ریچل وینراپٹر نے لبنیٰ قاضی کو حلف دلوایا۔ اس موقع پر لبنیٰ نے قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر اپنی آئینی ذمہ داریوں کی پاسداری کا عہد لیا۔ ایڈمنسٹریٹیو لاء جج کا عہدہ امریکی عدالتی نظام میں غیر معمولی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ اس منصب پر فائز جج سرکاری محکموں کے فیصلوں، انتظامی تنازعات اور عوامی شکایات سے متعلق مقدمات کی سماعت کرتے ہیں اور قانونی اصولوں کی بنیاد پر ان کا فیصلہ صادر کرتے ہیں۔
لبنیٰ قاضی کی زندگی کا سفر مختلف ملکوں اور ثقافتوں سے جڑا رہا ہے۔ ان کی پیدائش کویت میں ہوئی جہاں انہوں نے ابتدائی عمر والدین کے ساتھ گزاری۔ 1990ء میں وہ اسکول کی تعطیلات کے دوران امریکہ گئیں، مگر اسی دوران خلیجی جنگ کے باعث خاندان نے وہیں مستقل قیام کا فیصلہ کیا۔ بعد ازاں انہوں نے کیلیفورنیا میں تعلیم حاصل کی، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سے گریجویشن مکمل کیا اور ویسٹرن اسٹیٹ یونیورسٹی کالج آف لاء سے وکالت کی ڈگری حاصل کی۔
2005ء میں احسان چودھری سے شادی کے بعد لبنیٰ نیوجرسی منتقل ہوئیں، جہاں انہوں نے تقریباً 2 دہائیوں تک مختلف سرکاری اداروں میں بحیثیت وکیل خدمات انجام دیں۔ ان کے وسیع قانونی تجربے اور پیشہ ورانہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے 2025ء میں ریاست کے گورنر نے انہیں ایڈمنسٹریٹیو لاء جج کے عہدے کے لیے نامزد کیا۔ لبنیٰ قاضی لسانی اعتبار سے بھی ممتاز مقام رکھتی ہیں۔ وہ انگریزی کے علاوہ اردو، ہندی اور کوکنی زبان پر عبور رکھتی ہیں جبکہ عربی زبان سے بھی واقف ہیں۔ وہ اپنی آئندہ نسل کو تہذیبی جڑوں سے جوڑے رکھنے کے لیے اپنے دونوں بچوں  کو گھر پر اردو اور عربی کی تعلیم دے رہی ہیں۔ اس کامیابی پر لبنیٰ کے والد عنایت اللہ قاضی نے گہرے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بیٹی کی اس پیش رفت سے پورا خاندان فخر محسوس کر رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ محض ایک عہدہ نہیں بلکہ برسوں کی محنت، قربانی اور دعا کا ثمر ہے۔
لبنیٰ کے والد عنایت الله قاضی نے نمائندہ کو بتایا کہ ان کا تعلق خطہ کوکن کے رائے گڑھ ضلع میں واقع تعلقہ ' تلا ' سے ہے۔ انہوں نے چھٹی جماعت تک تعلیم دہلی جامعہ ملیہ اسکول سے حاصل کیں اور ہائی اسکول کی تعلیم ممبئی انجمن اسلام سے مکمل کیا۔ 1975 میں گورنمنٹ کالج آف انجینئرنگ اورنگ آباد سے میکانیکل انجینئرنگ میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد ملازمت کیلئے کویت کا رخ کیا۔ کویت میں ایئر کنڈیشنگ کمپنی سے اپنے کریئر کا آغاز کیا۔ کویت میں پندرہ سال کام کرنے کے بعد جب صدام حسین نے 'گلف جنگ' کے بعد کویت پر قبضہ کیا تو اس وقت ان کے بچے چھٹیاں گزارنے کیلئے امریکہ میں موجود تھے۔ عنایت الله قاضی ایک سوٹ کیس کے ساتھ امریکہ آئے اور وہیں سکونت اختیار کی اور اپنے چاروں بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی۔
عنایت الله قاضی نے بتایا کہ ان کی جڑیں اسلامی تہذیب میں مضبوطی کے ساتھ پیوست ہیں، ان کے گھر میں فخر کے ساتھ اردو زبان بولی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لبنیٰ نے 7 سال کی عمر میں قرآن شریف ختم کرلیا تھا۔ عنایت الله قاضی نے اپنے خاندان کے متعلق بتایا کہ تقریباً پانچ چھ نسلیں قبل ان کے آباؤ اجداد کو قاضی بناکر کوکن بھیجا گیا تھا تاکہ وہ مذہب، ذات اور رنگ و نسل کی تفریق کئے بنا انصاف قائم کرسکیں۔ یہ پیشہ وقت کے ساتھ دو تین نسل قبل ختم ہوگیا لیکن ان کی بیٹی نے اپنے آباؤ اجداد کے پیشے کو فخریہ طور پر اپنایا۔ انہیں اس بات کی بے حد خوشی ہے۔