جموں،27جنوری(یو این آئی) جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ ہندوستان کے آئین نے جموں و کشمیر کے عوام کو خصوصی آئینی مراعات دی تھیں اور انہی آئینی ضمانتوں کی بنیاد پر ریاست کا رشتہ ملک کے ساتھ قائم ہوا تھا۔ ان مراعات کا خاتمہ نہ صرف آئینی اصولوں کے منافی ہے بلکہ اس سے عوام کے اعتماد کو بھی شدید ٹھیس پہنچی ہے۔
جموں میں یوم جمہوریہ کے سلسلے میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضہ ہے کہ ملک کے آئین کا احترام کیا جائے اور جموں و کشمیر کے عوام کے وہ حقوق بحال کئے جائیں جو انہیں آئین ہند کے تحت حاصل تھے۔ بدقسمتی سے گزشتہ برسوں کے دوران پارلیمنٹ میں اکثریت کا ناجائز فائدہ اٹھا کر دفعہ 370 اور 35-اے کو منسوخ کیا گیا، جو آئین کی روح کے سراسر خلاف ہے۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مزید کہا کہ سہ طلاق، وقف بل اور دیگر قوانین کے ذریعے ایک مخصوص مذہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے ملک میں تفریق اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا ہورہاہے۔
انہوں نے کہاکہ آئین کے معماروں نے ملک کے ہر شہری کو مساوی حقوق دیئے تھے، لیکن آج اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کو ایک منظم سازش کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے، حتیٰ کہ ان کے مذہبی اور کھانے، پینے کے جیسے روزمرہ معمولات پر بھی اعتراضات کئے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مختلف ریاستوں میں صرف مسلمانوں کیخلاف بلڈوزر کا استعمال بھی ایک تشویشناک رجحان بن کر سامنے آرہا ہے، جس پر جتنی جلدی بریک لگائی جائے، اُتنا ہی ملک کی سالمیت اور آزادی کیلئے بہتر ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان کے تمام مذاہب، فرقوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اپنی زندگی اپنے طریقے سے جینے کا پورا حق حاصل ہونا چاہئے۔ آئین، جمہوریت اور جمہوری اداروں کے تقدس کو برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ آئین ہی ملک کی وحدت اور سالمیت کی بنیاد ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس آئین کے تحفظ اور عوامی حقوق کی بحالی کے لئے اپنی جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری رکھے گی۔