پنجاب کے سرد علاقہ میں جمعہ کی شب تقریباً 11 بجے ایک دھماکہ نے افرا تفری کا ماحول پیدا کر دیا۔ یہ دھماکہ خاص طور سے مال گاڑی کے لیے تیار کیے گئے ’ڈیڈیکیٹیڈ فریٹ کوریڈور‘ پر خان پور پھاٹکوں کے پاس ہوا۔ دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ ریلوے لائن کا تقریباً 12 فیٹ حصہ پوری طرح سے اڑ گیا اور پٹری کے پرخچے ہو گئے۔ دھماکہ اس وقت ہوا جب ایک مال گاڑی ٹریک سے گزر رہی تھی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکہ کی زد میں آنے سے مال گاڑی کا انجن بری طرح تباہ ہو گیا۔ اس حادثہ میں مال گاڑی کے سیکورٹی افسر انل شرما (ڈی ایف سی سی سیکورٹی افسر) کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔ غنیمت رہی کہ یہ فریٹ کوریڈور تھا اور اس وقت وہاں سے کوئی سواری گاڑی نہیں گزر رہی تھی، ورنہ ایک بڑا حادثہ ہو سکتا تھا۔
موصولہ اطلاع کے مطابق جانچ میں پولیس نے اس دھماکہ میں آر ڈی ایکس جیسے طاقتور دھماکہ خیز مادہ کے استعمال سے متعلق اندیشہ کو مسترد نہیں کیا ہے۔ جانچ ایجنسیاں اس نکتہ پر گہرائی سے کام کر رہی ہیں، کہ کیا یہ کسی بڑی سازش یا ریل نیٹورک کو نشانہ بنانے کی کوشش تھی۔ موقع سے ثبوت جمع کرنے کے لیے فورنسک ٹیم کو بلایا گیا ہے تاکہ دھماکہ کی اصل نوعیت کا پتہ لگایا جا سکے۔
بتایا جا رہا ہے کہ دھماکہ کی خبر ملتے ہی ضلع کے اعلیٰ افسران اور پولیس فورس موقع پر پہنچ گئے۔ ضلع پولیس نے جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ زخمی افسر پوری طرح خطرے سے باہر ہیں اور انھیں علاج کے بعد چھٹی بھی دے دی گئی ہے۔ ریلوے اور پولیس انتظامیہ اب جنگی سطح پر ٹریک کی مرمت کے کام میں مصروف ہے تاکہ مال گاڑیوں کا آپریشن پھر سے بحال کیا جا سکے۔ فی الحال پورے علاقہ میں سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے اور آس پاس کے علاقوں میں مشتبہ لوگوں کی تلاش جاری ہے۔