ہندوستان میں فضائی آلودگی اب صرف ماحولیاتی تشویش کی بات نہیں رہی بلکہ یہ ملک میں صحت عامہ کی ایک سنگین شکل اختیار کرگئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آلودہ ہوا ہر سال لاکھوں لوگوں کی جان لے رہی ہے اوراس کے اثرات خاموشی سے معیشت کو بھی کمزورکررہے ہیں۔ حال ہی میں جنیوا میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم کے دوران ماہراقتصادیات گیتا گوپی ناتھ نے اس مسئلے پرشدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی سے ہندوستان میں ہرسال تقریباً 17 لاکھ اموات ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ملک میں ہونے والی ہر5 میں سے تقریباً ایک موت آلودہ ہوا سے منسلک ہے۔
اگر ان اعداد و شمار کا روزانہ کی بنیاد پر تخمینہ لگایا جائے توصورتحال مزید تشویشناک ہو جاتی ہے۔ زہریلی ہوا کی وجہ سے ہندوستان میں ہرروز اوسطاً 4,657 لوگ زہریلی ہوا کی وجہ سے اپنی جان گنوا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی سے پیدا ہونے والی بیماریاں صرف اسپتالوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ وہ ملک کی پیداواری صلاحیت اور معیشت پر بھی براہ راست اثر ڈالتی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان کو ہرسال قبل از وقت اموات اور آلودگی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے اربوں ڈالر کا معاشی نقصان ہوتا ہے۔ صرف 2019 میں آلودگی سے متعلق قبل از وقت اموات سے ملک کو 28 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا جب کہ بیماریوں سے ہونے والے معاشی نقصانات کا تخمینہ 8 ارب ڈالر لگایا گیا۔ یہ نقصان کل 36.8 ارب ڈالر یعنی ہندوستان کی جی ڈی پی کا تقریباً 1.36 فیصد تھا۔
گزشتہ ہفتے جاری ہونے والی ورلڈ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کی 100 فیصد آبادی نقصان دہ پی ایم 2.5 ذرات سے متاثر ہے۔ پی ایم 2.5 کو سب سے خطرناک فضائی آلودگی سمجھا جاتا ہے جو متعدد ذرائع سے خارج ہوتے ہیں اور براہ راست پھیپھڑوں میں داخل ہوکر نقصان پہنچاتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق فضائی آلودگی سے فالج، دل کی بیماری، پھیپھڑوں کی دائمی بیماری، پھیپھڑوں کا کینسر اور نمونیا جیسی سنگین بیماریوں کے خطرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ صرف طویل مدت تک ہی نہیں بلکہ مختصر مدت کے لیے بھی بہت زیادہ آلودگی میں سانس لینا دمہ کے دورے، سانس کی تکلیف اور پھیپھڑوں کی صلاحیت کم ہونے جیسے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
’دی لینسیٹ پلینیٹری ہیلتھ‘میں شائع ایک تحقیق کے مطابق اگر ہندوستان میں ہوا کا معیار ڈبلیو ایچ او کے معیار پر پورا اترتا ہے تو ہر سال تقریباً 15 لاکھ اضافی اموات کو روکا جا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف فوسل فیول کے جلنے سے سالانہ تقریباً 7.5 لاکھ اموات ہوتی ہیں۔ اس میں کوئلے سے ہونے والی تقریباً 4لاکھ اور بائیو ماس کے جلنے سے تقریباً 3.5 لاکھ اموات شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آلودہ ہوا کے رابطے میں کچھ وقت کے لیے آنے سے بھی سانس سے منسلک مسائل،دمہ اور پھیپھڑوں کی کام کرنے کی صلاحیت پر اثر پڑسکتا ہے جبکہ طویل وقت تک رابطے میں رہنے سے دل، دماغ اور پھیپھڑوں کی سنگین بیماریوں کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔