Jadid Khabar

ٹرمپ نے عالمی فورم پر فرانسیسی صدر کا مذاق اڑایا

Thumb

واشنگٹن، 22 جنوری (ٰیو این آئی) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیووس میں عالمی فورم پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا مذاق اڑایا۔ 
سالانہ ورلڈ اکنامک فورم میں عالمی سیاست میں گرین لینڈ سے متعلق قیاس آرائیوں اور جیو پولیٹیکل کشیدگی کے درمیان فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون توجہ کا مرکز بن گئے۔ 
سوئٹزرلینڈ کے پہاڑی تفریحی مقام ڈیووس میں خطاب کے دوران جہاں میکرون کا لب و لہجہ سخت اور دو ٹوک تھا، وہیں ان کی شخصیت اور آنکھوں پر چڑھا ہوا پائلٹوں جیسا منفرد چشمہ بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔ 
وہیں دوسری جانب امریکی صڈر ڈونلڈ ٹرمپ سے یہ دیکھ کر برداشت نہ ہوا اور انھوں نے میکرون کے نیلے چشمے کا خوب مذاق بنایا۔ میڈیا کے مطابق امریکی صدر نے بدھ کے روز عالمی اشرافیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ''میں نے کل انھیں دیکھا، وہ خوب صورت چشمے پہنے ہوئے تھے۔ آخر یہ ہو کیا گیا ہے؟'' انھوں نے مزید کہا کہ ''جو دوا کی گولی 10 ڈالر کی ملتی ہے وہ 20 اور 30 ڈالر میں بھی مل سکتی ہے۔'' 
ادھر ایمانوئل میکرون کے دفتر نے کہا ہے کہ صدر نے بند ہال میں ہونے والی اپنی تقریر کے دوران گہرے اور چمک دار چشمے اس لیے پہنے تھے کیوں کہ ان کی آنکھ میں خون کی ایک رگ پھٹ گئی تھی اور آنکھوں کو تحفظ کی ضرورت تھی۔ 
میکرون کی تقریر کے بعد انٹرنیٹ پر میمز کی بھرمار ہو گئی۔ کچھ لوگوں نے گرین لینڈ کے معاملے پر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے''ٹاپ گن'' جیسا انداز اپنانے پر میکرون کی تعریف کی، جب کہ بعض نے ان پر تنقید بھی کی۔ 
منگل کے روز اپنی تقریر میں میکرون نے واشنگٹن کی جانب سے نئے محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کی دھمکیوں کو، جن میں فرانسیسی شراب اور شیمپین بھی شامل ہیں، ''بنیادی طور پر ناقابل قبول'' قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان دھمکیوں کا مقصد یورپ کے عزم کو توڑنا اور اسے گرین لینڈ خریدنے کی اجازت دینے پر مجبور کرنا ہے۔ میکرون نے وعدہ کیا کہ فرانس ''غنڈہ گردی کرنے والوں'' کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوگا۔ 
یاد رہے کہ بدھ کے روز ٹرمپ نے یورپ اور اس کے رہنماؤں پر سخت تنقید کی۔ اور اگرچہ انھوں نے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش میں طاقت کے استعمال کو مسترد کر دیا، تاہم انھوں نے واضح کر دیا کہ وہ اس آرکٹک جزیرے کے مالک بننا چاہتے ہیں۔ 
نیٹو کے رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ گرین لینڈ سے متعلق ٹرمپ کی حکمتِ عملی اتحاد کو نقصان پہنچا سکتی ہے، جب کہ ڈنمارک اور گرین لینڈ کے رہنماؤں نے 57 ہزار آبادی والے اس اسٹریٹجک جزیرہ نما علاقے میں امریکہ کی موجودگی بڑھانے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی ہیں۔