Jadid Khabar

نیتن یاہو پر پابندیوں کیلیے برطانوی وکلا اور انسانی حقوق گروپ کا اہم اقدام

Thumb

لندن، 21 جنوری (یو این آئی) اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کے خلاف پابندیوں کی درخواست برطانیہ کے وکلاء اور حقوق گروپ نے درخواست دائر کردی ہے۔ 
ایک عرب انسانی حقوق کی غیر سرکاری تنظیم (این جی او) نے غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں "فلسطینیوں کے خلاف تشدد اور نسل کشی کیلیے اکسانے" پر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے خلاف برطانیہ کی پابندیوں کے لیے درخواست دائر کی ہے۔ 
برطانوی قانونی فرم Deighton Pierce Glynn نے منگل کو عرب تنظیم برائے انسانی حقوق برطانیہ (اے او ایچ آر ۔یو کے) کی جانب سے فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس میں درخواست دائر کی، جس میں اسرائیلی رہنما کے خلاف مالی اور سفری پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ 
اس درخواست میں دلیل دی گئی ہے کہ نیتن یاہو پر پابندیاں لگانے کی معقول بنیادیں ہیں، بشمول سابقہ بیانات جو انہوں نے فلسطینی ریاست کو مسترد کرنے کے لیے دیے ہیں اور "مذہبی طور پر نسل کشی پر مبنی بیان بازی جیسے کہ 'عمالیق' کی تباہی کے لیے بائبل کے حوالہ جات کا استعمال"۔ 
یہودی روایت میں "عمالیق" کو خالص برائی کی نمائندگی کرنے والے کے طور پر جانا جاتا ہے لیکن اسے اسرائیلی انتہائی دائیں بازو سے فلسطینیوں کے قتل عام کو بیان کرنے اور جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ 
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اکتوبر 2023 میں اسرائیل کی جانب سے نسل کشی کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے کم از کم 71,551 افراد شہید اور 171,372 زخمی ہو چکے ہیں۔ 
پچھلے سال، اقوام متحدہ کی انکوائری میں پتہ چلا کہ نیتن یاہو اور اسرائیل کی اعلیٰ قیادت کے بیانات جنگ کے دوران غزہ میں "نسل کشی کے لیے اکسانے" کے مترادف تھے۔