واشنگٹن، 5 جنوری (یواین آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکہ کو اسٹریٹجک نقطہ نظر سے گرین لینڈ کی ضرورت ہے۔
ایئر فورس ون پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ آرکٹک کے علاقے میں روس اور چین کی بڑھتی ہوئی موجودگی کی وجہ سے گرین لینڈ امریکی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو گرین لینڈ کی ضرورت ہے کیونکہ یہ اس وقت بہت اسٹریٹجک مقام ہے اور وہاں ہر جگہ روسی اور چینی جہازپھیلے ہوئے ہیں۔ مسٹر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے انہیں گرین لینڈ کی ضرورت ہے اور ڈنمارک اسے سنبھال نہیں پائے گا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یورپی یونین بھی ان کے نظریے کی حمایت کرتی ہے اور وہ اس بات سے آگاہ ہے۔
مسٹر ٹرمپ کے یہ تبصرے وینزویلا میں واشنگٹن کے فوجی آپریشن کے بعد سامنے آئے ہیں۔ ایک خودمختار ملک کے خلاف امریکہ کی اس فوجی کارروائی نے گرین لینڈ کے بارے میں نئے خدشات کو ایک مرتبہ پھر بڑھا ہے، جس کے بارے میں مسٹر ٹرمپ نے بارہا کہا ہے کہ وہ آرکٹک میں اس کے اسٹریٹجک حیثیت کی وجہ سے اسے ضم کرنا چاہتے ہیں۔ امریکی صدر پہلے بھی متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ وہ بحر اوقیانوس کے ایک وسیع اور وسائل سے مالا مال جزیرہ گرین لینڈ کو اپنے ملک میں ضم کرنا چاہتے ہیں۔ گرین لینڈ ڈنمارک کا ایک خود مختار علاقہ ہے۔
مسٹر ٹرمپ کے بیان کے بعد ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈریکسن نے امریکی صدر پر زور دیا کہ وہ خطے کو دھمکیاں دینا بند کریں۔
ایک بیان میں، محترمہ فریڈرکسن نے کہا کہ گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کو ضرورت قراردینا مکمل طور پر غیر معقول ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکہ کو سلطنت ڈنمارک کے تین ممالک میں سے کسی کو بھی ضم کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے امریکہ سے ایک تاریخی طور پر قریبی اتحادی نیز دوسرے ملک اور اس کے لوگوں کے خلاف دھمکیاں بند کرنے کی پرزور اپیل کرتے ہوئے واضح طورپر کہا کہ وہ فروخت کے لیے نہیں ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ چین اس وقت نایاب معدنی مواد کی عالمی سپلائی چین پر غلبہ رکھتا ہے، اس لیے امریکہ گرین لینڈ کو اپنی اقتصادی سلامتی کو مضبوط بنانے اور ان اہم وسائل پر چین کے کنٹرول کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک بڑے موقع کے طور پر دیکھتا ہے۔