سری نگر،یکم اگست(یو این آئی) نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جمعے کے روز کہا کہ کشمیر کی قدیم اور عالمی شہرت یافتہ دستکاری کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ یہ نہ صرف وادی کی ثقافتی شناخت کا مظہر ہے بلکہ ہزاروں خاندانوں کے روزگار کا بھی ذریعہ رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ ہنرمند کاریگروں کی مدد کرے اور مشینی و جعلی اشیاء کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے۔
سری نگر میں صنعت و حرفت سے وابستہ تاجروں کے ایک وفد سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا، ’کشمیر کی قالین بافی، شال سازی، ووڈ کارونگ، تانبہ گری اور دیگر ہنر دنیا بھر میں صدیوں سے اپنی انفرادیت اور اعلیٰ معیار کے لیے پہچانے جاتے ہیں، لیکن آج یہ صنعت زوال کا شکار ہے۔‘
انہوں نے اس تنزلی کا ذمہ دار جی ایس ٹی جیسے مرکزی ٹیکس نظام، مشینی پیداوار اور جعلی مصنوعات کو قرار دیا۔ فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ یہ صنعت ہمیں بانی اسلام حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانی کی دین کے ساتھ ساتھ ایک ثقافتی ورثے کے طور پر ملی ہے۔ لیکن افسوس، آج ہاتھ سے بنی اشیاء کی جگہ مشینی مصنوعات نے لے لی ہے، جو مارکیٹ میں اصلی ہنرمندی کے نام پر فروخت ہو رہی ہیں۔ اس سے ہمارے کاریگروں کو شدید مالی نقصان پہنچ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کبھی شہر سرینگر کی آدھی سے زیادہ آبادی دستکاری سے وابستہ تھی، لیکن آج کی نوجوان نسل اس شعبے سے دور ہو رہی ہے کیونکہ اس میں آمدنی اور قدر دونوں میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کاریگروں پر زور دیا کہ وہ ایمانداری سے اپنے کام کو جاری رکھیں تاکہ اس شعبے کی کھوئی ہوئی شناخت دوبارہ بحال کی جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ہنرمندوں کے لیے مراعات، تربیت اور مالی معاونت کے خصوصی پروگرام شروع کرے، اور مشینی و جعلی اشیاء کی کھلے عام فروخت پر پابندی عائد کرے تاکہ کشمیری دستکاری کا معیار اور اعتماد برقرار رہے۔