Jadid Khabar

نتن یاہو‘ٹرمپ کو بھی لے ڈوبا

Thumb

مغرور،ظالم اور بددماغ حکمرانوں کی شکست کا سلسلہ جاری ہے۔ نتن یاہو کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو بھی شرمناک شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔یہ دونوں ہی ایسے حکمراں تھے جنھوں نے روئے زمین جہنم تخلیق کئے اور خلق خدا کواس میں رہنے پر مجبور  کیا۔ اب ان کی باری ہے اور یہ دونوں اپنے ہی عوام کے ہاتھوں ذلتوں سے دوچار ہوئے ہیں۔اسرائیل کے عام انتخابات میں وزیراعظم نتن یاہو کو دھول چٹانے کے بعد امریکی عوام نے ٹرمپ کی پارٹی کو شرمناک شکست سے دوچار کردیا ہے۔ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی نے وسط مدتی انتخابات میں اکثریت کھودی ہے اور وہ اقتدار سے 100سیٹیں دور رہ گئی ہے۔ امریکہ میں بیس سال بعد ڈیموکریٹ کا بول بالا ہوا ہے اور انتخابی نتائج نے ایسی ہلچل پیدا کردی ہے کہ ٹرمپ کو پیروں تلے سے زمین نکلتی ہوئی محسوس ہورہی ہے۔ انتخابی نتائج کے بعد ٹرمپ انتظامیہ سے استعفوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔حالانکہٹرمپ  اگلے دوبرس تک امریکہ کے صدر رہیں گے لیکن ان کے اختیارات محدود ہوگئے ہیں اور امکان ہے کہ انھیں عہدہ صدارت سے برطرف کرنے کے لیے مواخذے کی کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔ 
ڈیموکریٹس نے ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ ٹیکساس، کنساس، ساؤتھ کیرولائنا اور اوہائیو جیسے ریپبلکن کے مضبوط گڑھ مانے جانے والے علاقوں میں شکست نے ٹرمپ کی پارٹی کے سامنے قیادت کا سنگین بحران پیدا کردیا ہے۔ اب سوال صرف یہ نہیں رہ گیا ہے کہ ٹرمپ حکومت پارلیمنٹ میں کس طرح کام کرے گی بلکہ سوال یہ بھی ہے کہ ان کے بعد ریپبلکن پارٹی کی قیادت کس کے ہاتھ میں جائے گی۔ان کی پارٹی کے ارکان اپنی شکست کے لیے ٹرمپ کی پالیسیوں کو ذمہ دار ٹھہرارہے ہیں۔ ان کی شکست میں سب سے بڑا کردارنتن یاہو کی اندھی حمایت اور خود کو ایران جنگ میں جھونکنا ہے۔اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینون نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر حملے کا فیصلہ اسرائیل کا نہیں بلکہ امریکہ کا تھا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنی ذلت آمیز شکست کے بعد بھی ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنے جارحانہ عزائم کو ترک نہیں کیا ہے اور ایران کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ 
حالانکہ ٹرمپ نے اس حقیقت کو تسلیم کرچکے ہیں کہ ایران جنگ کی وجہ سے بڑھی ہوئی مہنگائی انھیں لے ڈوبی۔ ٹرمپ نے غزہ میں نتن یاہو کی  درندگی اور بربریت کی جس طرح اندھی حمایت کی اور اسے ہتھیار فراہم کئے، وہ ایک انتہائی احمقانہ فیصلہ تھا کیونکہ اس کے بعد اسرائیل کے ساتھ امریکہ کو بھی دنیا بھر میں تنقیدوں کا نشانہ بننا پڑا اور خود اندرون خانہ ان کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ گزشتہ سال جون میں اسرائیل کے ساتھ مل کرایران پرجو وحشیانہ بمباری کی گئی اس کے نتیجے میں امریکہ میں ٹرمپ کی مقبولیت میں بے حد کمی واقع ہوئی تھی۔ 28فروری کو شروع ہوئے آپریشن’ایپک کیوری‘نے ٹرمپ انتظامیہ کے ہرحصے کو اپنی گرفت میں لے لیا اور ٹرمپ کی ساکھ کو مٹی میں ملادیا۔ اس نے امریکہ کو نہ صرف فوجی بلکہ سفارتی مورچے پر بھی ذلیل وخوار کیا۔ اس کا الٹا اثر یہ بھی ہوا کہ اسرائیل اور امریکی اتحاد میں دراڑ پڑگئی اور اب ٹرمپ نے اسرائیل کو ملنے والی چار ارب ڈالر کی امریکی امداد روکنے کا اعلان کردیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایران پر تھوپی گئی جنگ کی وجہ سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں زبردست اچھال آیا، جس سے مہنگائی کا سب سے بڑابوجھ ٹرمپ کے اپنے حامیوں کو ہی اٹھانا پڑا۔نتیجہ یہ ہوا کہ2024میں جن انتخابی حلقوں اور صوبوں میں ٹرمپ کو بھاری اکثریت حاصل ہوئی تھی، وہاں کے ووٹروں نے  بھی ریپبلکن پارٹی کو حالیہ انتخاب میں مسترد کردیا۔حدتو یہ ہوئی کہ امریکہ میں اسرائیل حامی عناصر نے بھی ٹرمپ کو نظراندازکرکے ڈیموکریٹ کو ووٹ دئیے۔ ڈیموکریٹ اور ری پبلکن دونوں میں موجود اسرائیل حامی عناصر نے غزہ جنگ کے بعد اپنا موقف تبدیل کرلیا۔ امریکہ میں غزہ جنگ کے خلاف جو لاواپک رہا تھا وہ ایران پر مسلسل بمباری کی وجہ سے آتش فشاں میں تبدیل ہوگیا۔
 ڈونالڈ ٹرمپ کے سر پر جنگ کا جنون ہی سوار نہیں تھا بلکہ وہ مسلم دشمنی اور منافرت میں بھی سب سے آگے تھے۔ مشی گن میں جس ’عبدل‘ کو ’جہادی‘ کہا تھا، اس نے شاندار جیت درج کرائی ہے اور امریکی سینٹ کے پہلے مسلمان ممبر ہونے کا اعزازحاصل کرلیا۔ اسی طرح نتن یاہو نے اپنی سیاسی عمارت جن عربوں کے خلاف کھڑی کی تھی، اسرائیلی اقتدار کی کنجی ان کے ہاتھ آگئی ہے۔ اب وہاں عرب جماعتوں کے 19ممبران کو اتنی اہمیت حاصل ہوگئی ہے کہ وہ اپوزیشن رہنما آئزی کوٹ کے ساتھ حکومت سازی میں شریک ہورہے ہیں۔
سبھی جانتے ہیں کہ نتن یاہو اور ٹرمپ کی جوڑی نے پہلے غزہ کی اینٹ سے اینٹ بجائی اور وہاں تقریباً ایک لاکھ بے گناہ انسانوں کو موت کی نیند سلادیا۔ اس کے بعد دونوں نے مل کر ایران پر جارحیت کی جس کے نتیجے میں نہ صرف ایران کے روحانی قائد خامنہ ای کی موت ہوئی بلکہ ایران کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، لیکن ایران نے ابھی تک ٹرمپ کے آگے گھنٹے نہیں ٹیکے ہیں اور وہ مضبوطیکے ساتھ  اسرائیلی اور امریکی حملوں کا سامنا کررہا ہے۔غزہ پر وحشیانہ بمباری اور ایران کے خلاف جارحیت نے نتن یاہو اور ٹرمپ دونوں کوتاریخ کے ان حکمرانوں کی صف میں لاکھڑا کیا جنھوں نے انسانیت کے خلاف بدترین جرائم کا ارتکاب کیا۔ امریکی مدد سے اسرائیل نے فلسطینیوں کے خلاف بدترین جارحیت اور درندگی کی جو مثالیں پیش کی ہیں ان کی کوئی نظیر انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ یہی وجہ ہے کہ نتن یاہو جنگی جرائم کی عالمی عدالت کو مطلوب ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ اسرائیل آج تک فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کے لیے جو مظالم ڈھاتا رہا ہے، اس میں اس کی پشت پر صرف اور صرف امریکہ کا ہاتھ رہا ہے۔
نتن یاہو اور ڈونالڈ ٹرمپ کی شرمناک شکست کے بعد دنیا میں پوچھا جانے والا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اب ان دیگر حکمرانوں کا کیا ہوگا جو نفرت کی بنیاد پراقتدار میں آئے ہیں اور آج بھی نفرت ہی ان کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ یہ نفرت سب سے زیادہ مسلمانوں کے خلاف ہے۔ خود ہمارے اپنے ملک میں بھی یہی ہورہا ہے۔ بلاشبہ دنیا کے دوبدترین حکمرانوں کی اقتدار سے محرومی اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ خدا کی بنائی ہوئی اس دنیا میں صرف محبت کی بنیادپر ہی دلوں کو جیتا جاسکتا ہے اور جو لوگ نفرت کے بیج بوتے ہیں اور انسانوں کے درمیان تفریق پیدا کرتے ہیں ان کا انجام دیرسویر عبرتناک  ہی ہوتا ہے۔
امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں جہاں ایک طرف امریکی عوام نے صدرٹرمپ کو دھول چٹادی ہے تو وہیں دوسری طرف اسرائیل کی  120/رکنی پارلیمنٹ میں خود نتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 27/سیٹوں پر سمٹ گئی ہے۔ حالانکہ نتن یاہو کے اتحاد کو سب سے زیادہ 53/سیٹیں ملی ہیں، لیکن وہ اکثریت کے61/سیٹوں کے ہندسے کو نہیں چھوسکا، جبکہ ان کے مخالف سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کی پارٹی کو پارلیمنٹ میں 48/نشستیں ملی ہیں اور وہ عرب اتحاد کی 19/سیٹوں کی مدد سے حکومت تشکیل دینے کی تیاری کررہے ہیں۔ نتن یاہو کے گروپ میں شامل ایک جماعت بھی انھیں چھوڑ کر اپوزیشن اتحاد کے ساتھ شامل ہوگئی ہے۔ اس طرح نتن یاہو اور ٹرمپ کے اقتدار کا ایک ساتھ عبرتنا ک خاتمہ ہواہے۔